پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:34 - GMT 21:34

مالکی اورعلاوی کے انتخابی اتحادوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ

عراقی وزیراعظم کے اتحادی کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات

بدھ 01 ربيع الثاني 1431هـ - 17 مارچ 2010م
وزیراعظم نوری المالکی اورسابق وزیراعظم ایاد علاوی کے اتحادکے درمیان سخت مقابلہ ہے.فائل
وزیراعظم نوری المالکی اورسابق وزیراعظم ایاد علاوی کے اتحادکے درمیان سخت مقابلہ ہے.فائل
بغداد.ایجنسیاں

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی ایک اتحادی سیاست دان نے پارلیمانی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور فراڈ کے الزامات عاید کیے ہیں اور ملک بھر میں ڈالے گیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔

نوری المالکی کے اتحادی علی الادیب نے بدھ کو عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام ایسے وقت میں عاید کیا ہے جب مالکی کے اسٹیٹ آف لا الائنس اور اس کے قریبی مخالف سابق وزیراعظم ایاد علاوی کی قیادت میں انتخابی اتحاد العراقیہ کے درمیان ڈرامائی طور پر مقابلہ برابرجارہاہے۔

جنوبی صوبے کربلا سے اسٹیٹ آف لا اتحاد کے ایک امیدوار علی الادیب کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اندرواضح طور پرایک مخصوص فہرست کے حق میں انتخابی نتائج میں ردوبدل کیا جارہا ہے۔انہوں نے اپنے اتحاد کی جانب سے مطالبہ کیا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ووٹوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔

عراق میں عام انتخابات کے لیے گذشتہ اتوار کو ڈالے گیے ووٹوں کی نئی گنتی کے بعد مزیدنتائج سامنے آئے ہیں جن کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں اتحاد اور سابق وزیر اعظم ایادعلاوی کے اتحاد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور دونوں کے ووٹوں کی تعداد کم وبیش برابر ہوگئی ہے.

اب تک اناسی فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اور فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف ہی کے مطابق نوری المالکی کی قیادت میں اسٹیٹ آف لا الائنس اورعلاوی کا عراقیہ بلاک پارلیمنٹ کی کل تین سوپچیس نشستوں میں سے ستاسی،ستاسی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائِیں گے.

دونوں اتحادوں کے درمیان صرف نو ہزارووٹوں کا فرق رہ گیا ہے اور ابھی عراق کے الیکشن کمیشن نے ملک سے باہرتارکین وطن کے ووٹوں اور سکیورٹی فورسز،مریضوں اورقیدیوں کے لیے الگ سے ہونے والی پولنگ کی گنتی مکمل نہیں کی.

اسٹیٹ آف لا اتحاد کو عراق کے سب سے بڑے صوبہ بغداد میں برتری حاصل ہے۔اسی طرح جنوبی صوبہ بصرہ سمیت شیعہ اکثریتی آبادی والے چھے صوبوں میں بھی اس اتحاد کو برتری حاصل ہے لیکن یہ اتحاد سنی آبادی والے صوبوں میں ناکام رہا ہے۔

دوسری جانب سابق عراقی وزیراعظم ایادعلاوی کے عراقیہ اتحاد کو چار صوبوں میں برتری حاصل ہے۔ان میں ملک کا دوسرا بڑا صوبہ نینویِ بھی شامل ہے۔اسی طرح پانچویں صوبہ کرکوک میں عراقیہ اور نوری المالکی کے اتحاد کے درمیان مقابلہ برابر جارہا ہے۔شیعہ اکثریتی چھے صوبوں میں عراقیہ تیسرے نمبرپر ہے۔ان صوبوں میں نوری المالکی کا اتحاد پہلے یا دوسرے نمبر پرہے۔

مجموعی طور پر اب تک کی گئی ووٹوں کی گنتی کے مطابق ایادعلاوی کے اتحاد نے سب سے زیادہ ووٹ 2,102,981 حاصل کیے ہیں اور اسے اسٹیٹ آف لا اتحاد پر8,984 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔اس اتحاد نے 2,093,997 حاصل کیے ہیں۔شیعہ جماعتوں پر مشتمل عراقی نیشنل الائنس تیسرے نمبرپر ہے اور وہ سڑسٹھ نشستیں حاصل کرسکے گا جبکہ کردجماعتوں کے اتحادکے حصے میں اڑتیس نشستیں آنے کی امید ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق چھوٹے گروپ دس سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کرسکیں گے۔