پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا کی ایک عدالت نے انٹرنیٹ پر طالبان جنگجوٶں سے روابط کے بعد گرفتار کیے گیے پانچ امریکیوں کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام اور ملکی قانون کی خلاف ورزی کے چھے الزامات پر فرد جُرم عاید کر دی ہے.
پانچوں ملزموں پر بدھ کو لگائی گئی فردجرم میں'' مجرمانہ سازش، پاکستان کے پڑوسی ممالک میں حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے داخل ہونے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق الزامات شامل ہیں.جس پر انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے.تاہم پانچوں ملزموں نے عدالت سے قصور وار نہ ہونے کی استدعا کی ہے.
ان پانچوں امریکیوں کو دسمبر میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں سرگودھا سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا. ان پانچوں افراد کی عمریں انیس سے پچیس سال کے درمیان ہیں اور ان کا ورجینیا سے تعلق ہے.ان میں سے دو پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں.ایک مصری، ایک یمنی اور ایک اری ٹیرین نژاد امریکی ہے.
پولیس کی جانب سے گذشتہ سماعت کے موقع پر ان پانچوں افراد کے خلاف پیش کیے گیے چالان میں ان پر تعزیرات پاکستان کی متعدد دفعات اور انسداد دہشت گردی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے.ان میں سب سے سنگین دہشت گردی کی کسی کارروائی کی سازش میں شریک ہونے کا الزام ہے.ان کے خلاف اب 31مارچ کو مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گی. واضح رہے کہ پاکستان کی ایک عدالت انہیں امریکا بدر کرنے پر پابندی عاید کر چکی ہے.
پاکستانی پولیس کا کہنا ہے کہ ان پانچوں افراد نے افغانستان جانے کی منصوبہ بندی کی تھی جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر امریکی فوج کے خلاف لڑنا چاہتے تھے.تاہم ملزموں نے القاعدہ کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خیراتی کام کے سلسلہ میں افغانستان جانا چاہتے تھے.
پولیس حکام کے مطابق ملزمان کے ای میل پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی طالبان سے رابطہ کیا تھا اور اس جنگجو گروپ نے انہیں پاکستان میں حملوں کے لئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی.
واضح رہے کہ امریکیوں نے عدالت میں گذشتہ دو سماعتوں کے موقع پر پیشی کے بعد واپس جاتے ہوئے دوران حراست تشدد کی شکایت کی تھی. انہوں نے پولیس کی وین سے ایک ٹشو پیپر صحافیوں کی جانب پھینکا جس میں لکھا تھا: ''ہماری گرفتاری کے بعد سے امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور پاکستانی پولیس کے اہلکار ہمیں تشدد کانشانہ بنا رہے ہیں''. لیکن پولیس اور جیل حکام نے ان سے کسی قسم کے ناروا سلوک کی تردید کی تھی.