پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:33 - GMT 21:33

امریکا میں اسرائیلی سفیر کا اپنے بیان کی صحت سے انکار

مقبوضہ بیت المقدس میں جھڑپوں کے بعد صورت حال قدرے بہتر

بدھ 01 ربيع الثاني 1431هـ - 17 مارچ 2010م
سترھویں صدی کا متنازعہ صومعہ،جسے دوبارہ کھولنے کے خلاف فلسطینیوں نے مظاہرے کیے ہیں۔
سترھویں صدی کا متنازعہ صومعہ،جسے دوبارہ کھولنے کے خلاف فلسطینیوں نے مظاہرے کیے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس/واشنگٹن۔ایجنسیاں

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے یہودیوں کے ایک معبد کو دوبارہ کھولنے کے خلاف فلسطینیوں کے شدید احتجاج کے ایک روز بعد صورت حال قدرے پُرامن ہے جبکہ امریکا میں متعین اسرائیلی سفیر اپنے اس بیان سے منحرف ہو گیے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات پینتیس سال کے بعد پہلی مرتبہ بدترین بحران سے دوچار ہیں۔

گذشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف حصوں میں قابض اسرائیلی پولیس اہلکاروں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔فلسطینی ریڈ کراس کے مطابق جھڑپوں میں اکیس افراد شدید زخمی ہو گیے تھے جن کا اسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے جبکہ بیسیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران ایک پولیس اہلکار کو ہاتھ پر پستول سے چلائی گئی گولی لگی ہے اور فائرنگ کرنے والا نامعلوم شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ چار زخمی پولیس اہلکاروں کو اسپتال لے جایا گیا اور دس کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا، اسرائیلی پولیس اہلکار فلسطینیوں کی جانب سے پتھراٶ سے زخمی ہوئے تھے۔اسرائیلی پولیس نے احتجاج کرنے والے ساٹھ فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں اسرائیل نے سوموار کی رات متنازعہ صومعے کو یہودیوں کے لیے کھولا تھا جس سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ فلسطینی گذشتہ کئی ہفتوں سے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

غزہ کی پٹی کے مختلف شہروں میں بھی ہزاروں فلسطینیوں نے سترھویں صدی کے صومعے کو دوبارہ کھولنے کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور اسرائیلی فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا۔ فلسطین کی سیکولر تنظیم فتح اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کی نمائندہ حماس یہودی معبد کے افتتاح کی مذمت کر رہی ہیں۔حماس کی اپیل پر منگل کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فیصلے کے خلاف "یوم غضب" منایا گیا ہے۔

ستاون مسلمان ممالک کی نمائندہ اسلامی کانفرنس تنظیم نے منگل کو ایک بیان می اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے قریب یہودی معبد کو کھولنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خطے کو مذہبی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما کے خصوصی نمائندے جارج میچل نے خطے کا اپنا دورہ چند روز کے لیے موخر کر دیا ہے اور اب وہ جمعرات کو ماسکو میں مشر ق وسطی کے بارے میں گروپ چار کے اجلاس کے بعد خطے کے دورے پر آئیں گے.

درایں اثناء واشنگٹن میں امریکی سفیر مائیکل اورن اپنے اس بیان سے انکار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ پینتیس سال میں پہلی مرتبہ تعلقات بحران کا شکار ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کا غلط مطلب اخذ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جو بھی اختلافات ہیں، انہیں جلد طے کر لیا جائے گا۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرنوت نے گذشتہ سوموار کو ان کے بیان کے حوالے سے لکھا تھا کہ ''اسرائیل اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات 1975ء کے بعد پہلی مرتبہ بحران سے دوچار ہیں''۔