سپین میں پولیس نے پاکستان کے شہر جہلم میں پانچ سالہ برطانوی بچے ساحل سعید کے اغوا کیس سے تعلق کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے لیکن یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ کل کتنے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس سے پہلے ایک اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساحل سعید کے اغوا اور پھر پُر اسرار طریقے سے اس کی بازیابی کے بعد سپین میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سپین کے شمال مشرقی شہر تراگونا کے ایک مقامی اخبار نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس نے دو پاکستانی مردوں اور ایک رومانی عورت کو گرفتار کیا ہے۔ان تینوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انہوں نے یورپ کےکسی شہرمیں ساحل سعید کی بازیابی کے لیے تاوان کی رقم وصول کی تھی اور وہ اس شہر کےسفرکے بعد حال ہی میں لوٹے ہیں۔
اخبار نے لکھا ہے کہ پولیس نے ان مشتبہ افراد کے فلیٹ سے بھاری رقم برآمد کی ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز اغوا کار صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے قصبے ڈنگہ میں ایک میدان میں بچے کو چھوڑ کر لاپتا ہو گیے تھے اوراس کے اغوا میں ملوث کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ساحل سعید کی بازیابی کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔
ساحل سعید کو 4مارچ کو جہلم سے ان کی دادی اماں کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔اس وقت وہ اپنے پاکستانی والد کے ساتھ واپس برطانیہ روانہ ہونے والے تھے۔ساحل سعید کے والد کے مطابق ان کے گھر پر متعدد مسلح افراد نے دھاوا بول دیا اور انہیں چھے گھنٹےتک یرغمال بنائے رکھا تھا۔اغوا کاروں نے بعد میں بچے کی رہائِی کے لیے ایک لاکھ بیس ہزار ڈالرز تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ساحل سعید کے اغوا کے واقعے میں ان کے خاندان کے قریبی لوگ ملوث ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس واردات میں اس بچے کے قریبی عزیز و اقارب ملوث ہیں۔راول پنڈی ڈویژن کے پولیس سربراہ اسلم ترین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ابھی ہم مشتبہ ملزموں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔انہوں نے بتایا کہ بچہ اب پولیس کی حفاظت میں ہے۔
ساحل سعید کی والدہ عقیلہ نقاش نے بھی خاندان کے کسی فرد کےاس اغواکیس میں ملوث ہونے کی اطلاعات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شمالی انگلینڈ کے شہر اولڈہم میں واقع اپنے گھر میں اپنے بیٹے کی واپسی پرایک بڑی پارٹی کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔
اسلام آباد میں متعین برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والا بچہ ساحل صحت مند، خطرے سے دور اور محفوظ مقام پر ہے۔ تاہم سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ اسے والدین کے حوالے کب کیا جائے گا۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن کا کہنا تھاکہ ساحل کے والدین ممکنہ طور بدھ کو پاکستان نہیں آ رہے، انہوں نے بتایا کہ ساحل کی بازیابی کے معاملے میں برطانیہ، پاکستانی حکام کے کردار سے مطئمن ہے۔برطانوی سفارت خانے کے حکام نے گذشتہ روز بچے کی بحفاظت بازیابی پر جہلم پولیس کے کردار کی تعریف کی تھی۔