امریکا کے محکمہ انسداد دہشت گردی سے منسلک ایک اہلکار نے دعوی کیا ہے افغانستان میں فیڈرل بیورو آف انوسٹیگشن "ایف بی آئی" کے کیمپ میں خود کش دھماکے کا ماسٹر مائنڈ اور پاکستان میں القاعدہ کے سرکردہ رہنما حسین الیمنی بغیر پائلٹ کے جاسوسی طیارے کے حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اہلکار نے بتایا کہ "ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں جن سے حسین الیمنی کے ایف بی آئی بیس پر حملے میں ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں اپنا اڈا قائم کر رکھا تھا۔" اہلکار نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ تیس دسمبر کو خوست میں ہونے والے حملے کا بنیادی کردار تھا۔
امریکی ایف بی آئی پر ہونے والا خوست میں حملہ، اس ادارے کی تاریخ کو دوسرا خونی واقعہ تھا۔ یہ حملہ اردن کے ایک ڈبل ایجنٹ نے کیا جسے القاعدہ نے تنظیم کی صفوں میں بھرتی کرایا گیا۔
امریکا کے انسداد دہشت گردی ادارے سے وابستہ اہلکار نے کہا کہ جاسوس طیارے کے حملے میں ہلاک ہونے والے یمنی کے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ اور طالبان قائد جلال الدین حقانی سے مضبوط رابطے تھے۔ القاعدہ کی اس شاخ نے یمن میں اپنا اڈا قائم کر رکھا ہے جلال الدین حقانی بھی امریکی سی آئی کو مطلوب افراد کی فہرست میں نمایاں نام ہے۔ امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ حسین الیمنی قبائلی علاقے میرانشاہ میں جاسوس طیارے سے داغے گئے میزائل حملے کا نشانہ بنا۔
امریکی سی آئی اے نے تیس دسمبر کو خوست میں اپنی بیس پر خود کش حملے کے بعد پاکستان میں انٹیلی جنس کارروائیوں اور ڈرون طیاروں کے حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں ایف بی آئی کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ امریکا نے خوست خود کش حملے کا انتقام لینے کا اعلان کیا تھا۔