سعودی عرب کے ایک عالم دین نے مکہ معظمہ میں مسجد حرام کو شہید کر کے اس کو دوبارہ اس انداز میں تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس میں مرد اور عورتیں کے لیے الگ الگ حصے مختص کیے جائیں.
شیخ یوسف الاحمد نے سعودی عرب کے ایک سیٹلائٹ چینل بداية سے بدھ کو بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجدِ حرام کو شہید کرکے اس کی جگہ دس، بیس یا تیس منزلوں پر مشتمل نئی مسجد تعمیر کی جانی چاہئے.
انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی اس گفتگو کی ویڈیو فوٹیج میں شیخ یوسف نے مزید کہا ہے کہ نئی تعمیر کی جانے والی منزلوں کو اس کے بعد مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ تقسیم کرکے مختص کر دیا جائے جہاں صرف ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے مسلمان عبادت کر سکیں.
اس وقت مسجد حرام کی تین منزلیں ہیں اور یہ دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے.یہ کعبة اللہ کے ارد گرد تعمیر شدہ اور مسلمانوں کے نزدیک یہ سب سے مقدس مقام ہے.
واضح رہے کہ سعودی عرب کے یہ عالم دین اپنے متنازعہ فتووں اور نقطہ نظر کے لیے مشہور ہیں.انہوں نے ایک مرتبہ یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ جو کوئی بھی غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کو آپس میں گھلنے ملنے کی اجازت دے،اسے قتل کر دیا جانا چاہیے.
گذشتہ ماہ سعودی عرب کے ایک اور معروف عالم دین شیخ عبدالرحمان البراق نے یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ جولوگ مخلوط تعلیم کے حامی ہیں،انہیں سزائے موت دی جانی چاہیے.اس فتویٰ پر مصر اور سعودی عرب کے علمائے دین نے کڑی نکتہ چینی تھی اوراس کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے اسے تشدد کی ایک اپیل قرار دیا تھا.