پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:33 - GMT 21:33

2010ء کے وسط میں ایران کے جوہری پلانٹ پر کام شروع کرنے کا اعلان

ایران کا بو شہر پلانٹ موسم گرما میں آن لائن ہو جائے گا: پیوٹن

جمعرات 02 ربيع الثاني 1431هـ - 18 مارچ 2010م
تہران کے جنوب میں واقع بوشہر کے جوہری پلانٹ پر ایرانی پرچم لہرا رہا ہے.فائل
تہران کے جنوب میں واقع بوشہر کے جوہری پلانٹ پر ایرانی پرچم لہرا رہا ہے.فائل

روس کے وزیر اعظم ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کے بو شہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ پر رواں سال کے وسط میں کام کا آغاز کر دیا جائے گا.

روس کے جنوبی شہر وولگوڈنسکی میں جمعرات کو جوہری صنعت سے متعلق امور کے بارے میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا ہے کہ''ایران کے جوہری پاور اسٹیشن کے پہلے یونٹ پراس سال موسم گرما میں کام کا آغاز ہو جانا چاہیے''.

مسٹر پوٹن نے کہا کہ ہم نے ملک کے اندر اور بیرون ملک جوہری توانائی کی صلاحیت کی ترقی کے لیے کام جاری رکھا ہوا ہے.

روس ایران کے جنوبی شہر بوشہر میں 1990ء کی دہائی کے وسط سے جوہری پلانٹ کی تعمیرمیں مدد دے رہا ہے لیکن ایک ارب ڈالرز کے منصوبے کی تکمیل میں بعض وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو اس جوہری پلانٹ کو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کے لیے ایک لیور کے طور پر استعمال کر رہا ہے.

ایران کے جوہری بجلی پیدا کرنے والے اس پاور اسٹیشن کی تعمیر کے معاملے پر ماضی میں روس اور مغرب کے درمیان اختلافات پائے جاتے تھے. امریکا کی قیادت میں مغربی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے.تاہم امریکا نے حالیہ برسوں کے دوران اس جوہری پلانٹ کی مخالفت ترک کردی ہے.

روس کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ خالصتاً شہری مقاصد کے لیے ہے اور اسے ہتھیاروں کے کسی بھی پروگرام کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی نگرانی میں آتا ہے اور ایران تمام استعمال شدہ فیول راڈز روس کو واپس بھیجے گا.