روس کے وزیر اعظم ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کے بو شہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ پر رواں سال کے وسط میں کام کا آغاز کر دیا جائے گا.
روس کے جنوبی شہر وولگوڈنسکی میں جمعرات کو جوہری صنعت سے متعلق امور کے بارے میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا ہے کہ''ایران کے جوہری پاور اسٹیشن کے پہلے یونٹ پراس سال موسم گرما میں کام کا آغاز ہو جانا چاہیے''.
مسٹر پوٹن نے کہا کہ ہم نے ملک کے اندر اور بیرون ملک جوہری توانائی کی صلاحیت کی ترقی کے لیے کام جاری رکھا ہوا ہے.
روس ایران کے جنوبی شہر بوشہر میں 1990ء کی دہائی کے وسط سے جوہری پلانٹ کی تعمیرمیں مدد دے رہا ہے لیکن ایک ارب ڈالرز کے منصوبے کی تکمیل میں بعض وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو اس جوہری پلانٹ کو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کے لیے ایک لیور کے طور پر استعمال کر رہا ہے.
ایران کے جوہری بجلی پیدا کرنے والے اس پاور اسٹیشن کی تعمیر کے معاملے پر ماضی میں روس اور مغرب کے درمیان اختلافات پائے جاتے تھے. امریکا کی قیادت میں مغربی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے.تاہم امریکا نے حالیہ برسوں کے دوران اس جوہری پلانٹ کی مخالفت ترک کردی ہے.
روس کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ خالصتاً شہری مقاصد کے لیے ہے اور اسے ہتھیاروں کے کسی بھی پروگرام کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی نگرانی میں آتا ہے اور ایران تمام استعمال شدہ فیول راڈز روس کو واپس بھیجے گا.