امریکا نے حماس کے بنک اور ٹی وی پر پابندیاں عاید کردیں
حماس کے بنک اورٹی وی کے ساتھ کسی قسم کے مالی لین دین کی ممانعت
امریکا کے محکمہ خزانہ نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والی دوفرموں........اسلامی نیشنل بنک اورالاقصیٰ ٹیلی وژن .......پر ان کی علاقے کی حکمران حماس تنظیم کے ساتھ وابستگی پر پابندیاں لگادی ہیں.
محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں اداروں پرعاید کردہ پابندیوں کے تحت امریکی شہری ان کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کرسکیں گے اور امریکا کی حدود میں ان کے کوئی اثاثے موجودہوئے تو انہیں بھی منجمد کردیا جائے گا.
امریکی محکمہ خزانہ نے حماس کو ایک خصوصی عالمی دہشت گرد تنظیم قراردیا ہے.اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلامی نیشنل بنک پر اس لیے پابندیاں عاید کی گئی ہیں کیونکہ وہ حماس کے عسکری بازوسمیت اس کے ارکان اور ملازمین کو مالی خدمات مہیا کررہا ہے.حماس نے اپریل 2009ء میں یہ بنک کھولا تھا.
امریکی محکمے کا مزید کہنا ہے کہ اس بنک کے پاس فلسطینی مانیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کوئی لائسنس نہیں ہے اوریہ مالیاتی نظام سے ماورا کام کررہا ہے.مئی 2009ء میں حماس کے محکمہ خزانہ نے گیارہ لاکھ یوروزکی رقم اسلامی نیشنل بنک میں منتقل کی تھی اور اس رقم کو حماس کے عسکری شعبے کے ارکان کو تنخواہیں اداکرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا.
محکمہ خزانہ نے الاقصیٰ ٹیلی وژن اسٹیشن پر الزام عاید کیا ہے کہ اسے حماس تنظیم کنٹرول کرتی اور چلانے کے لیے رقم مہیا کرتی ہے.یہ حماس کا ایک بنیادی میڈیا ادارہ ہےجواس کے بہ قول ایسے پروگرام نشر کرتا ہے جن میں بچوں کوبالغ ہونے پر حماس کے مسلح جنگجو اور خودکش بمبار بننے کی تربیت دی جارہی ہے.
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حماس کی قیادت نے 2006ء میں اس ٹی وی اسٹیشن کو شروع کرنے کے لیے ابتدائی سرمایہ مہیا کیا تھا اور گذشتہ سال کے آخر میں اس کو چلانے کے لیے بجٹ میں ہزاروں لاکھوں ڈالرز مختص کیے تھے.
امریکی محکمہ خزانہ کے دہشت گردی اورمالیاتی انٹیلی جنس امور کے انڈرسیکرٹری اسٹارٹ لیوی نے ایک بیان میں کہاہے کہ ''ان کا محکمہ کسی دہشت گردگروپ کی جانب سے کسی کاروبار کوکنٹرول کرنے اوراس کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے میں کوئی تمیز نہیں کرے گا.جیسا کہ الاقصیٰ ٹیلی وژن اور دہشت گردگروپ بہ ذات خود ہے''.