یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح کا کہنا ہے حوثی باغیوں سے ہماری جنگ مثبت انداز میں ختم ہو گئی ہے۔ بارودی سرنگوں کی صفائی، شاہراہوں کا کھلنا، ساٹھ فیصد انتظامی یونٹس کے کنٹرول کی مقامی حکام کو حوالگی اور 175 قیدیوں کی رہائی اعتماد سازی کے مثبت مظاہر ہیں۔ حوثیوں سے ماضی میں ہونے والے پانچ جنگوں کے بعد ایسے اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
معروف صحافی داود الشریان کے پروگرام "فیس دی پریس" کے دوسرے حصے میں سرکردہ سعودی صحافی خالد المالک، ایڈیٹر انچیف روزنامہ الجزیرہ، جمال خاشقجی، ایڈیٹر روزنامہ الوطن نے بھی شرکت کی۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یمنی صدر نے کہا کہ جنگ سے لگنے والے زخموں پر پھاہا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ ابھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا حوثی باغیوں نے جنگ کی صورت میں سیاسی نہیں بلکہ تخریبی کام کیا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ چھے نکاتی جنگ بندی کی شرائط پر عمل کریں اور اب تک وہ اس پر مثبت انداز میں عمل کر رہے ہیں۔
یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے ملک میں کوئی نیا مذہب رائج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جنوبی اور شمالی یمن کی وحدت یمن امامت کے دور کی واپسی کا خواب دیکھنے والوں کی خواہش پوری نہیں ہو گی۔
صدر صالح نے کہا کہ وہ تیسری ٹرم کے لئے صدارتی امیدوار نہیں ہوں گے۔ میں اس ضمن میں یمن کے دستور کی پاسداری کروں گا
انہوں نے یمن میں کسی نئے مذہب کی ترویج کے امکان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے کا ایک ملک اور چند افراد دور امامت کی واپسی کی آس میں حوثی باغیوں کی مدد کر رہے ییں۔ ہمارے پاس دور امامت کا خواب دیکھنے والوں سے متعلق دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 48 برس گذرنے کے بعد انقلاب عوام کے ذہنوں میں راسخ ہو گیا ہے تاہم وہ ابھی امامت کا خواب دیکھ رہے ہیں اور اسے خدائی حق خیال کرتے ہیں۔
علی عبد اللہ صالح نے واضح کیا کہ یمن ایک سے زیادہ پرامن مذاہب کا مخالف نہیں، ہم مستقبل میں بھی الزیدی اورالشافعی مذہب کا پیروکار رہیں گے۔ صعدہ میں اثنا عشری مذاہب نئی پیش رفت ہے۔ ہم ملک میں تعدد مذاہب کے نظریئے پرعمل پیرا ہیں۔ ہم اس بات کے بھی مخالف ہیں کہ اثنا عشری مذہب کو الزیدی، شافعی مسلک کے ملک پر مسلط ہونے کی اجازت دیدی جائے۔
صدر صالح نے کہا کہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان ہونے والے اقدامات جنگ کا خاتمہ ہیں، انہیں وقتی جنگ بندی قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ معاہدے کے مطابق سرحدی پٹی میں دس کلومیٹر طویل بفر زون قائم کرنے کی شرط پر عمل درآمد مشکل ہے تاہم اس کے باوجود کہ یمن، سعودی عرب سے کئے جانے والے معاہدے پر امکانی حد تک عمل کر رہا ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باڈر سیکیورٹی فورس اور یمنی پولیس نے سعودی عرب کی سرحد پر پوزیشن سنبھالنا شروع کر رکھی ہے۔ یہ کام راستہ کھلنے اور وہاں سے بارودی سرنگوں کی صفائی کے بعد جلد مکمل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فورس امن قائم کرنے اور دراندازی روکنے کے لئے کافی ہے۔
یمنی صدر نے بتایا کہ اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر حوثیوں نے قبضے میں لئے جانے والے سیکیورٹی اڈے خالی کر دیئے ہیں۔ حوثی پہلی پانچ جنگوں میں چکما دیتے رہے ہیں تاہم لڑائی کے چھٹے مرحلے میں وہ بہت زیادہ تعاون کر رہے ہیں۔ وہ دراصل یمنی حکام کے پاس قید ایک سو 175 حوثی قیدیوں کی رہائی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
حوثیوں سے مذاکرات میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے علی عبد اللہ صالح نے کہا کہ ماضی میں ان سے ہونے والے مذاکرات میں جزوی کامیابی کے علی الرغم ہمارا اعتماد مجروح ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یمنی وحدت قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی یمن میں علاحدگی کی مہم کے باوجود ہم سیاسی فریم ورک میں وہاں کی قیادت سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ یمن میں اسلحہ کی تجارت کے معاملے کا اظہار خیال کرتے ہوئے علی عبد اللہ صالح نے اس بات کی تردید کی ہے اس میں یمنی سرکاری اہلکار ملوث ہیں۔