پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:31 - GMT 21:31

اسرائیلی وزیر اعظم نےیہودی بستیوں سے متعلق مثبت ردعمل ظاہرکیا ہے: کلنٹن

مشرق وسطیِٰ گروپ چار کا اجلاس، یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبہ کی مذمت

جمعہ 03 ربيع الثاني 1431هـ - 19 مارچ 2010م
مشرق وسطیٰ کے بارے میں گروپ چار کے نمائندے مذاکرات کے بعد نیوز کانفرنس میں مشترکہ گروپ فوٹو کے دوران
مشرق وسطیٰ کے بارے میں گروپ چار کے نمائندے مذاکرات کے بعد نیوز کانفرنس میں مشترکہ گروپ فوٹو کے دوران
مقبوضہ بیت المقدس/ماسکو۔ایجنسیاں

مشرق وسطیٰ کے بارے میں اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکا اور روس پر مشتمل گروپ چار نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید سولہ سو نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کی ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ مذمت کی ہے۔

گروپ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے پر مشتمل آئندہ چوبیس ماہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے لیے کردار ادا کریں۔ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے علاوہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شرکت کی ہے۔

ماسکو اجلاس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی جنگی طیاروں نے گذشتہ روز کے ایک مہلک راکٹ حملے کے جواب میں چھے اہداف پر بمباری کی ہے۔ گروپ نے اپنے بیان میں غزہ کی پٹی کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملے کی مذمت کی ہے اور فوری طور پر تشدد اور دہشت کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں گروپ چار نے غزہ میں انسانی اور انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور غزہ کے بحران پر فوری طور پر ایک قرار داد منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ وہ ماسکو اجلاس کے بعد اتوار کو غزہ جائیں گے تاکہ وہ خود برسر زمین علاقے کی صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔

امریکا نے گذشتہ ہفتے فریقین کے درمیان بالواسطہ بات چیت کو شروع کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن فلسطینیوں نے انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے سولہ سو نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان کے بعد اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

فلسطینی علاقوں میں کشیدگی

مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی کے بعد اسرائیل نے فلسطینیوں کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے جبکہ پچاس سال سے کم عمر فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

فلسطینی سکیورٹی اہلکاروں اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے علی الصباح غزہ کی پٹی میں گذشتہ روز کے راکٹ حملے کے جواب میں چھے مقامات پر بمباری کی ہے تاہم ان حملوں میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

گذشتہ روز غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب فائر کیے گیے ایک راکٹ سے ایک غیر ملکی کارکن ہلاک ہو گیا تھا۔ فلسطینیوں کے انصار السنة نامی ایک غیر معروف گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی اسرائیل کی مقبوضہ بیت المقدس میں جاری چیرہ دستیوں کے جواب میں کی ہے۔

غزہ کی جانب سے یہ راکٹ ایسے وقت میں فائر کیا گیا تھا جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن حماس کے زیر حکومت غزہ کی پٹی کے دورے پر تھیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس راکٹ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں راکٹ حملے سے صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جلد سے جلد مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے بھی اپنے ایک الگ بیان میں جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملے سے ایک تھائِی باشندے کی ہلاکت کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔