پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:34 - GMT 21:34

''سبزلہر منصوبہ ''مزاحمت کے خانے'' قائم کرے گا''

ایران:حزب اختلاف کے حامیوں کے لیے امدادی سکیم کا اعلان

جمعہ 03 ربيع الثاني 1431هـ - 19 مارچ 2010م
ایران کے شکست خوردہ صدارتی امیدوار میرحسین موسوی کے حامیوں نے 15جون 2009ء کو تہران میں مظاہرے کے دوران سبزرنگ کا ایک بڑاجھنڈا اٹھا رکھا ہے.
ایران کے شکست خوردہ صدارتی امیدوار میرحسین موسوی کے حامیوں نے 15جون 2009ء کو تہران میں مظاہرے کے دوران سبزرنگ کا ایک بڑاجھنڈا اٹھا رکھا ہے.

ایرانی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن امیرجہاں شاشی نے ملک کی اسلامی حکومت کی مخالف تحریکوں کی مالی اور مادی معاونت کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے.

اس سکیم کو ''سبزلہر''کا نام دیا گیا ہے.لندن میں مقیم انچاس سالہ کاروباری شخصیت اورلکھاری جہاں شاشی نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ اس نئے منصوبہ کے تحت صدر محمود احمدی نژاد کی مزاحمت کے لیے سیل قائم کیے جائیں گے.

انہوں نے کہا کہ''اس وقت اپوزیشن کی گرین تحریک گلیوں اور سڑکوں پر تو موجود ہے لیکن اس کا کوئی ڈھانچا نہیں ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس کی کوئی قیادت بھی نہیں جو اس کو کامیابی سے ہمکنار کرسکے''.ان کا کہنا تھا کہ ''ہم حکومت کے مخالفین کے خانوں کو مزاحمت کے خانوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں.

انہوں نے مزید بتایا کہ ''اپوزیشن گروپ ہم سے رابطہ کریں گے اور اگر انہیں ٹھوس منصوبوں کے لیے کچھ درکار ہوا تو ہم ان کی مدد کریں گے.جو لوگ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں ان کے لیے ہمارے پاس وسائل موجود ہیں''.

سابق شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے آخری وزیرخزانہ کے بیٹے جہاں شاشی کا مزید کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ اور اس طرح کے دوسرے شعبوں میں طویل ہڑتالوں کومنظم کیا جائے گا تاکہ ایرانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکیا جاسکے.

1979 ء میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں انقلاب اور امریکا کے حمایت یافتہ شاہ کا تختہ الٹنے کے بعد سے جہاں شاشی جلا وطنی کی زندگی گزاررہے ہیں.پہلے انہوں نے فرانس میں پناہ لی تھی اور ان دنوں وہ برطانیہ میں رہ رہے ہیں.ان کا کہنا ہے کہ ان کا نیا منصوبہ کوئی نئی تحریک یا نئی جماعت نہیں بلکہ اس کا مقصد صدراحمدی نژاد کے خلاف موجودہ گروپوں کی حمایت کرنا اور انہیں منظم بنانا ہے.

واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ سال جون میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے بعد سے صورت حال کشیدہ چلی آرہی ہے.شکست خوردہ صدارتی امیدوار میر حسین موسوی اور ان کے حامیوں نے ابھی تک صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا اور وہ بدستور حکومت مخالف مظاہرے کررہے ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران انہوں نے قومی دنوں کے موقع پرسرکاری پروگراموں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں.