پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:33 - GMT 21:33

2012ء میں ممکنہ معاہدہ، مشرق وسطیٰ امن عمل کو نقصان پہنچے گا:لائبرمین

یہودی بستیوں کو منجمد کرنے کے مطالبے کا خیرمقدم

جمعہ 03 ربيع الثاني 1431هـ - 19 مارچ 2010م
فلسطینیوں اوراسرائیلی سکیورٹی فورسزکے درمیان مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں جھڑپوں کا ایک منظر۔
فلسطینیوں اوراسرائیلی سکیورٹی فورسزکے درمیان مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں جھڑپوں کا ایک منظر۔
مغربی کنارہ/مقبوضہ بیت المقدس۔ایجنسیاں

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کے بارے میں گروپ چار کے مطالبے پر عمل درآمد کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیرکا عمل منجمد کردینا چاہیے جبکہ انتہا پسند اسرائیلی وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین کا کہنا ہے کہ گروپ کے مطالبے سے امن کے امکانات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

فلسطینی صدر نے جمعہ کوایک بیان میں کہا ہے کہ ''گروپ چارکااسرائیل سے یہودی آبادکاری کی سرگرمیاں معطل کرنے سے متعلق مطالبے پرمبنی بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کو اس پرعمل درآمد کرنا چاہیے تاکہ امن کا عمل دوبارہ شروع ہوسکے''۔انہوں نے کہا کہ یہودی آباد کاری کا ایشو تمام مسئلے کی جڑ ہے۔

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے گروپ چار پر زوردیا ہے کہ وہ نگرانی کا ایک ایسا نظام قائم کرے جو اسرائیل سے مقبوضہ بیت المقدس سمیت تمام مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانات کی تعمیر کا عمل رکوانے کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت پر الزام عاید کیا کہ اس نے برسرزمین یہودی آبادکاری کے لیے سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں لیکن وہ عالمی برادری کو مسلسل دھوکا دیتے ہوئے یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اس نے نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرزطلب کرنے کا سلسلہ بند کردیا ہے۔

دوسری جانب انتہا پسند اسرائیلی وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ گروپ چار کی جانب سے امن معاہدے کے لیے 2012ء کی تاریخ مقررکرنے اور یہودی آبادکاری کے عمل کو روکنے کے لیے مطالبے سے مشرق وسطی امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔

انتہا پسند لائبر مین کا برسلزمیں یہودی کمیونٹی سے خطاب میں کہنا تھا کہ ''امن کو مصنوعی طور پر کسی غیرحقیقی کیلنڈر کے ساتھ نافذ نہیں کیا جاسکتا۔گروپ چار کی جانب سے امن معاہدے اوریہودی بستیوں کی تعمیر کو منجمد کرنے کے مطالبے سے متعلق بیانات سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے امکانات معدوم ہوجائیں گے اور فلسطینیوں کو بھی یہ تاثر ملے گا کہ وہ براہ راست مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کرسکتے ہیں''۔

الخلیل میں جھڑپیں

درایں اثناء مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی میں اوراضافہ ہوگیا ہے۔

سیکڑوں فلسطینیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی چیرہ دستیوں کے خلاف الخلیل میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔انہوں نے قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر پتھراو کیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں گزشتہ چند روزسے جاری کشیدگی کے بعد جمعہ کے روز اسرائیلی پولیس کوہائی الرٹ کردیا گیاتھا اور ہزاروں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گیے تھے جبکہ قابض حکام نے پچاس سال سے کم عمر فلسطینیوں کو مسجد اقصی میں نماز جمعہ کے لیے داخل ہونے سے روک دیا۔

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہودی آباد کاروں کے لیے سولہ سوسے نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان اورمسجد اقصی کے قریب واقع سترھویں صدی کے ایک صومعے کو یہودیوں کے لیے کھولے جانے کے اعلان کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور فلسطینیوں اسرائیلی حکومت کے اشتعال انگیز اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔