امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے خاتمہ سے متعلق نیا معاہدہ طے پانے کے قریب ہے اور دونوں ممالک بہت جلد تصفیہ طلب امور طے کر کے اس پر دستخط کر دیں گے۔
روس اور امریکا 1991ء میں طے پائے تزویراتی ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے اسٹارٹ کی جگہ نئے معاہدے کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے بات چیت کر رہے ہیں لیکن وہ ابھی تک اس سلسلہ میں کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس معاہدے کی گذشتہ دسمبر میں مدت ختم ہو گئی تھی۔
ہیلری کلنٹن نے ماسکو میں روس کے صدر دمتری میدویدیف کے ساتھ مذاکرات کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''ہم نئے اسٹارٹ معاہدے کے لیے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے مطمئن ہیں۔ ہماری مذاکراتی ٹیموں نے ہمیں بتایا ہے کہ انہوں نے تمام بڑے ایشوز طے کر لیے ہیں لیکن ابھی تک بعض فنی ایشوز طے نہیں کیے جا سکے۔لیکن ہم امریکا اور روس کے درمیان نئے معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں''۔
اس موقع پر روسی وزیر خارجہ لاروف نے ہلیری کلنٹن کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان مستقبل قریب میں نئے معاہدے پر مذاکرات کی تکمیل ہو سکتی ہے۔تاہم دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات کا کوئِی اشارہ نہیں دیا کہ صدر براک اوباما اور روسی صدر دمتری میدویدیف معاہدے پر کب دستخط کریں گے۔
نیوز کانفرنس کے دوران ایران کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے سرگئی لاروف نے کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر وسیع تر بین الاقوامی ڈائیلاگ کے مواقع کھو رہا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ اس وقت ہم ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سخت پابندیاں عاید کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ واضح رہے کہ روسی صدر بھی اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر ضروری ہوا تو ایران پر نئی پابندیاں عاید کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔