''پاکستان میں طالبان لیڈروں کی گرفتاری سے مصالحتی کوششوں کو دھچکا لگا''

اقوام متحدہ کے خفیہ روابط اچانک منقطع ہو گیے: سابق سفارتکار

نشر في:

افغانستان میں اقوام متحدہ کے سابق خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طالبان کی سرکردہ شخصیات کی گرفتاریوں سے ان کے ساتھ عالمی ادارے کے خفیہ روابط اچانک منقطع ہوگیے ہیں اور جنگ زدہ ملک میں مصالحت کے لیے کوششیں ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔

افغان دارالحکومت کابل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دے کر حال ہی میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ناروے کے سفارت کار کائی ایدی کا کہنا ہے کہ وہ اور اقوام متحدہ سے تعلق رکھنے والے دوسرے سفارتکار بہار2009ء سے طالبان کے سنئیر ارکان سے بات چیت کررہے تھے اور ان کی دبئی اور بعض دوسرے مقامات پر بالمشافہ ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں۔

انہوں نے طالبان کے نائب سربراہ ملاعبدالغنی برادر اور دوسرے مزاحمتی لیڈروں کوگرفتارکرنے پر پاکستان کو تنقیدنشانہ بنایا ہے اورکہا ہے پاکستانی یقینی طورپران طالبان شخصیات کے افغان مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کردار سے آگاہ تھے۔ لیکن پاکستان نے طالبان لیڈروں کی گرفتاریوں کے مصالحتی بات چیت سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے۔

کائی ایدی نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ روابط میں بڑی تیزی آئی تھی لیکن پاکستان میں گرفتاریوں کے بعد سے یہ تمام عمل رک کررہ گیا ہے۔

کائی ایدی کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ اس بات میں یقین کیا ہے کہ سیاسی عمل کو ہماری حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔طالبان کے ساتھ ہماری بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں تھی اور میرے خیال میں طالبان کے لیڈر ملا محمد عمر کو اعتماد میں لیے بغیر طالبان کی جانب سے یہ بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بھی پیش گوئی کی کہ اب دونوں جانب اعتماد بحال کرنے میں خاصا وقت لگے گا۔

واضح رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کے ایک قریبی مشیر نے چند روز قبل اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا تھا کہ افغان صدر نے طالبان کے سربراہ ملامحمد عمر کے نائب ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری پر سخت غصے کا اظہار کیا تھا کیونکہ وہ اپنی گرفتاری سے قبل صدرکرزئی کی دعوت پر آئندہ ماہ ہونے والے تین روزہ امن جرگے میں شرکت پر آمادگی ظاہر کرچکے تھے۔

دوسری جانب پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ اور فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس کا کہنا ہے کہ ملابرادر کی گرفتاری امریکی انٹیلی جنس اور پاکستانی فورسز کے ایک مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں عمل میں آئی تھی اور اس گرفتاری کا امن بات چیت یا مصالحتی مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

یادرہے کہ چند ہفتے قبل طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے دست راست اور تحریک کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادرکو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امریکی اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور اس کے ایک ہفتے بعد طالبان کے دواور اہم کمانڈروں اور شیڈو گورنروں کی گرفتاری کی اطلاع منظرعام پرآئی تھی۔

افغانستان کے شمالی صوبہ قندوز کے گورنر محمد عمر نے بتایاتھا کہ قندوزاور بغلان صوبوں کے شیڈوطالبان گورنروں کو بھی پاکستان میں گزشتہ مہینے گرفتار کیا گیا تھا۔ان طالبان لیڈروں کی گرفتاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی نے اب اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور وہ طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کے لئے امریکا کے ساتھ اور زیادہ تعاون کر رہی ہے۔