قرآن مجید پڑھنے اور نمازیں ادا کرنے والے سعودی طوطے
ناطق طوطے کی سب سے زیادہ 40 ہزار سعودی ریال قیمت ادا کی گئی
سعودی عرب میں طوطوں کو قرآن مجید کی تلاوت سکھائی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ انہیں نماز پڑھنے کا طریقہ بھی بتایا جاتا ہے۔ طوطوں کو تعلیم دینے کے رجحان نے حالیہ برسوں میں زور پکڑا ہے لیکن طوطے پالنے اور رکھنے کے شائقین اپنے شوق کی تکمیل میں بھاری رقوم بھی صرف کر رہے ہیں۔
طوطے پالنے کے ایک شائق اور طوطوں کو علم سکھانے کے ماہر عبدالرحمان العروان کا کہنا ہے کہ ''سعودی عرب میں طوطوں کو قرآن مجید سکھانے کا رجحان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کچھ سال قبل لوگوں نے طوطوں کو گانا سکھانا شروع کیا تھا۔ لیکن اب انہیں قرآن سکھانے کے رجحان نے زور پکڑا ہے''۔
العروان کا کہنا ہے کہ ''اب اگر لوگوں کو یہ پتا چلے کہ کسی کے ہاں طوطا ہے تو ان کا اس کے مالک سے پہلا سوال یہ ہو گا کہ کیا اس نے قرآن مجید کی کچھ آیات زبانی یاد کی ہیں؟ اگر جواب نہیں میں ہوتا ہے تو ان کا جواب یہ ہو گا: پھر تو اس طوطے کی زیادہ قیمت نہیں ہونی چاہیے''۔
اگر ایک طوطے نے قرآن مجید کی بعض آیات زبانی یاد کر رکھی ہوں تو اس کی قیمت بارہ سے تیرہ ہزار ریال کے درمیان ہو گی۔ اگر اس نے مکمل سورتیں بھی یاد کی ہوں تو اس کی قیمت بیس ہزار ریال تک ہو گی۔ تاہم اگر طوطا قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے اور حج کی تلبیہ ''لبیک اللہم لبیک''بھی ادا کرے تو اس کی قیمت کہیں زیادہ ہو گی۔
العروان نے مزید بتایا کہ ''وہ طوطے کو تدریجاً ایک ایک آیت کر کے مکمل سورتیں سکھاتے ہیں اور وہ الفاظ بار بار دُہراتے ہیں۔ اسی طرح وہ طوطے سے پوچھتے ہیں کہ آپ کا خدا کون ہے؟ تو اس کے جواب میں اسے لفظ اللہ کہنا سکھایا جاتا ہے۔اسی طرح وہ سوال کرتا ہے تو اس کا جواب دیا جاتا ہے''۔
بوڑھے اور جوان طوطوں کی سیکھنے کی صلاحیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ جوان طوطے سادہ الفاظ مثلاً ''ہیلو''، بابا وغیرہ سے الفاظ سیکھنے کا آغاز کرتے ہیں جبکہ بوڑھے طوطے بالکل ابتدا میں آیات سیکھ سکتے اور لمبے جملے بھی ادا کر سکتے ہیں۔
طوطے کو تعلیم دینے کے ماہر العروان نے بتایا کہ ''اس ذہین پرندے کو بولنا سکھانے اور اس کے ذخیرہ الفاظ میں اضافے کے لیے صبح کا وقت بہترین ہے''۔انہوں نے مزیدبتایا کہ یہ پرندہ بہت ہی زیادہ وفادار اور حساس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ''اگر مالک اپنی جگہ تبدیل کرلے تو تب بھی طوطا اسے پہچان سکتا ہے۔ اگر اسے یہ علم ہو جائے کہ مالک کسی خاص فرد سے ہم کلام نہیں ہوتا تو وہ بھی اس سے نہیں بولتا۔ اگر اس کے کھانے کو تبدیل کر دیا جائے تو وہ تب بولنا بند کر دیتا ہے۔ ان کے بہ قول اب تک سعودی عرب میں ایک طوطے کی سب سے زیادہ قیمت چالیس ہزار ریال (قریباً دس ہزار چھے سو ڈالرز) ادا کی گئی ہے۔