اسلام آباد:نجی کمپنی کا طیارہ گرکرتباہ،152افرادجاں بحق

115لاشیں مل گئیں،حکومت پاکستان کا ایک دن کے سوگ کا اعلان

نشر في:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے پہلو میں واقع مارگلہ کی پہاڑیوں پرایک نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو کا مسافر طیارہ گرکرتباہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام ایک سوباون افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔حکومت نے اس الم ناک حادثے پرجمعرات کوایک دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ حادثے میں طیارے میں سوارتمام مسافر اور عملے کے ارکان جاں بحق ہو گئے ہیںاورکوئی مسافرزندہ نہیں بچ سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے حادثے میں تخریب کاری کے امکان کو بھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا ،حادثے کی تحقیقات ہرپہلوسے کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طیارے میں سوارتمام افرادکی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں،ریسکیوآپریشن جلدمکمل کرلیاجائے گا۔بدھ کی شب تک 98 فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کیا جا چکا ہے،ریسکیوآپریشن میں دشواریوں کا سامنا ہے۔حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کی جارہی ہے۔

نجی فضائی کمپنی ائیربلیو کا مسافر طیارہ بدھ کی صبح پونے آٹھ بجے کراچی سے دوگھنٹے کی مسافت پر واقع اسلام آباد کے لیے روانہ ہواتھا۔سول ایوی ایشن کے ایک افسر پرویزجارج نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پرپونے دس بجے کے قریب اترنے کی کوشش کے دوران طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

مسافر طیارہ ائیربس اے 321ائیرپورٹ سے پندرہ کلومیٹر دور فیصل مسجد کے عقب میں واقع مارگلہ پہاڑیوں پر گرکرتباہ ہوگیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہیلی کاپٹروں کی مددسے امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں۔مسافر طیارہ مارگلہ پہاڑیوں پر جس جگہ گرکرتباہ ہوا،وہ نوفلائی زون ہے۔طیارے کے پہاڑی سے ٹکرانے کے بعد اس کاکچھ ملبہ کھائی میں جاگرا۔

حادثے کے بعد تباہ شدہ طیارے کا ملبہ اور انسانی اعضاء مارگہ کی پہاڑیوں پر دوردورتک پھیل گئے جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں گھنے جنگل اور گہری کھائی میں گرے ملبے سے انسانی لاشوں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرناپڑا ہے۔فوجی کے تین ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ایئر ڈیفنس اور نیوی کی ٹیموں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔اسلام آباد میں سارادن بارش اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیش آئی ہیں۔

مسافر طیارے کومقامی لوگوں نے حادثے سے قبل انتہائی کم بلندی پر پرواز کرتے دیکھا تھا، جو ان کے بہ قول خاصا غیر معمولی عمل تھا۔ لینڈنگ سے چند منٹ قبل ہوائی جہاز کے کاک پٹ میں موجود عملے کا ایئر پورٹ کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس الم ناک ہوائی حادثے کی ایک وجہ اسلام آباد کا خراب موسم بھی ہو سکتا ہے۔

تباہ کن فضائی حادثہ

پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے تباہ کن فضائی حادثہ ہے جس میں دوامریکی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حادثے کا شکار ہونے والے باقی تمام افراد پاکستانی تھے۔

فوری طورپر حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ایک اطلاع کے مطابق تباہ شدہ طیارے کا بلیک باکس تلاش کرلیا گیا ہے جس سے حادثے کی وجوہ کا تعین کرنے میں مددملے گی۔تاہم وزیردفاع چودھری احمد مختار نے واقعے میں دہشت گردی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ حادثہ اتنا شدیدتھا کہ اس سے طیارے میں سوار میں تمام ایک سوچھیالیس مسافروں اور عملے کے چھے ارکان میں سے کسی کے بھی زندہ بچنے کی امید نہیں تھی اور سب کچھ جل کرراکھ ہوگیا ہے،لاشیں مسخ ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت بھی ممکن نہیں رہی۔طیارے کے ملبے سے صرف چند ایک بیگ اور بعض دیگر اشیاء ہی کچھ بہتر حالت ملی ہیں۔

امدادی کارکنوں نے ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے ملنے والے انسانی اعضاء اور لاشیں اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز میں پہنچا دی ہیں۔بدھ کی رات امدادی سرگرمیوں معطل ہونے تک ایک سوپندرہ لاشیں ملی تھیں۔

وفاقی وزیراطلاعات قمرالزمان کا کہنا ہے کہ بیشترلاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی۔اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان رچرڈ سنلسئیرنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طیارے میں دوامریکی شہری سوار تھے تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

پاکستان پائیلٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ طیارہ ممکنہ طور پر اپنا راستہ بھٹک گیا تھا اور وہ ہوائی اڈے پر اترنے سے قبل اس سے غیرمعمولی طور پر پندرہ کلومیٹر دورچلا گیا تھا حالانکہ اسے پانچ کلومیٹرکی حدودکے اندر رہنا چاہیے تھا۔

سول ایوی ایشن کے ڈپٹی چیف ائیروائس مارشل ریاض الحق کا کہنا ہے کہ ''طیارے کو اتنا دور نہیں جانا چاہیے تھا۔ہم یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا ہے''۔حادثے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے کی مالک کمپنی کے ترجمان راحیل احمد کا کہنا ہے کہ ''طیارے کو کوئی فنی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور پائیلٹ نے کوئی ایمرجنسی سگنلز بھی نہیں دیے تھے''۔انہوں نے کہا کہ حادثے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

پاکستان میں فضائی حادثات

بدھ کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آنے والا حادثہ پاکستان میں چار سال بعد کسی مسافر طیارے کا حادثہ تھا۔ اس حادثے میں پاکستانی سر زمین پر پہلی مرتبہ کسی نجی پاکستانی کمپنی کا مسافر طیارہ تباہ ہوا ہے۔

اس سے قبل ہونے والے تمام حادثوں میں سرکاری فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے طیارے ہی تباہ ہوئے جن میں پاکستانی سرزمین پر محض فوکر طیارے ہی حادثات کا شکار ہوئے۔

پاکستان میں مسافر طیاروں کے فضائی حادثات کی تاریخ میں دارالحکومت کی حدود میں پیش آنے والا یہ تیسرا حادثہ تھا۔

اس سے قبل دس جولائی 2006ءکو پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کا فوکر طیارہ ملتان ائیر پورٹ سے اڑتے ہی حادثے کا شکار ہو گیا تھا جس میں 45 افراد ہلاک ہوئے۔ ملتان حادثے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن نے فوکر طیاروں کا استعمال ترک کر دیا تھا۔

فروری 2003ءمیں پاکستان ائیر فورس کے سربراہ مصحف علی میر فوکر طیارے کے حادثے میں سترہ افسران سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

انیس سو نواسی میں گلگت میں بھی ایک فوکر طیارہ چّون مسافروں سمیت لاپتا ہوگیا تھا جس کا آج تک کوئی نام و نشان نہیں ملا۔

انیس سو چھیاسی میں پشاور میں ایک فوکر طیارہ گرا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان میں پی آئی اے کے زیرِاستعمال فوکر طیارے کا پہلا حادثہ انیس سو ستر میں پیش آیا جس میں تیس مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسرا حادثہ انیس سو بہتر میں پیش آیا اور اس میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ دونوں حادثے راولپنڈی / اسلام آباد میں پیش آئے۔