جوہری پاکستان آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کاچیئرمین منتخب
جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاٶمعاہدے پردستخط نہ کرنے کے باوجود
ایٹمی پاکستان کوویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے بورڈآف گورنرزکاایک سال کے لیے نیا چیئرمین منتخب کرلیاگیا ہے۔
ویانا میں آئی اے ای اے کے پنیتیس رکن ممالک پرمشتمل بورڈ آف گورنرزکے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ انصرپرویز کو آیندہ ایک سال کے لیے عالمی ادارے کا چئیرمین مقررکیا گیا ہے اور وہ ملائشیا سے اس عہدے کا چارج لیں گے۔
پاکستان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاٶکے معاہدے(این پی ٹی) کااس وقت فریق نہیں ہےاوراس کے جوہری بم کے خالق ڈاکٹرعبدالقدیر خان پرایران اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی میں معاونت فراہم کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
آئی اے ای اے کا بورڈ آف گورنرز ایک اہم پالیسی سازادارہ ہے اور اس کا سال میں پانچ مرتبہ اجلاس ہوتا ہے۔اس کے چئیرمین کا ہرخطے سے باری باری ایک سال کے لیے انتخاب کیا جاتا ہے۔ادارے کا چئیرمین بورڈآف گورنرزکے اجلاسوں میں مباحث کے دوران صدارت کرتا ہے اوراتفاق رائے سے فیصلوں کے لیے غیرجانبدارانہ کرداراداکرتا ہے۔
انصرپرویزکااپنے انتخاب کے بعدکہنا تھا کہ''پاکستان نے بھارت،شمالی کوریا اوراسرائیل کی طرح 1970ء کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھلاٶ کے معاہدے پر ابھی تک دستخط نہیں کیے لیکن اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔پاکستان اس سے قبل بھی ایک مرتبہ آئی اے ای اے کے بورڈآف گورنرزکا چئیرمین منتخب ہوچکا ہے اور بھارت دومرتبہ عالمی ادارے کا چئیرمین رہا ہے۔
اجلاس میں مشرق وسطیٰ اورجنوبی ایشیا کی جانب سے آئی اے ای اے کے بورڈآف گورنرزکی چئیرمین شپ کے لیے نامزد کردہ پاکستان کے امیدوارکی مغربی طاقتوں نے مخالفت نہیں کی کیونکہ پاکستان ایک طویل عرصے سے ویانا میں قائم آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا رکن چلا آرہا ہے اوراس کاانتخاب قواعد وضوابط کے مطابق کیا گیا ہے۔
قانون کا پابند ملک
پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں مختلف شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن آئی اے ای اے کا چئیرمین مقررہونے کے بعدانصرپرویز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''پاکستان آئی اے ای اے کے قوانین کا پابند ایک ملک ہے''۔
انہوں نے کہا کہ ''ہم آئی اے ای اے کے قیام کے بعد سے اس کے رکن چلے آرہے ہیں۔ہماری تمام سول تنصیبات اس ادارے کے سیف گارڈز کے تحت ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ ''پاکستان کی خصوصی پوزیشن کے پیش نظر ہم آئی اے ای اے میں گذشتہ چند سال سے زیرغوربعض امور میں ثالثی کا کرداراداکرسکتے ہیں''۔
انہوں نے بتایا کہ ''پاکستان کی چئیرمین کے عہدے کے لیے نامزدگی پر بند کمرے کے اجلاس میں کسی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔یہ ایک معمول کی تبدیلی ہے''۔اس مرتبہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی چئیرمین کے عہدے پر فائزہونے کی باری تھی اور انہوں نے اتفاق رائے سے پاکستان کو نامزد کیا تھا۔
بعض مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس پرگروپ میں آسانی سے اتفاق رائے ہوگیا ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے کسی ملک پر بآسانی اتفاق رائے ممکن نظرنہیں آتا تھا۔واضح رہے کہ شام اور ایران بھی اسی گروپ میں شامل ہیں اور آئی اے ای اے کے معائنہ کار گذشتہ چندبرسوں سے ان دونوں ممالک کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کررہے ہیں۔
اسٹاک ہوم میں قائم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان کے پاس ساٹھ کے قریب وارہیڈزہیں جبکہ اس کے روایتی حریف ملک بھارت کے پاس ساٹھ سے ستر وارہیڈز ہیں۔بھارت نے 1974ء میں پہلی مرتبہ جوہری بم کا تجربہ کرکے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع کی تھی اور مئی 1998ء میں اس نے دوسری مرتبہ جوہری تجربہ کیا تھا جس کے جواب میں پاکستان نے بھی جوہری تجربات کیے تھے۔
جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی سلامتی امور کے سنئیر فیلو اولیورتھرانرٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان این پی ٹی پر دستخط نہ کرنے اورجوہری بم کے خالق ڈاکٹرعبدالقدیرخاں کے کردار کی وجہ سے ایک خصوصی کیس تھا لیکن ان کے بہ قول آئی اے ای اے کی چئیرمین شپ سے کوئی مسائل پیدا نہیں ہوں گے بلکہ اس سے پاکستان کی آئی اے ای اے کا ایک ذمے دارملک بننے کے لیےحوصلہ افزائی ہوگی اور اسے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاٶ رجیم کے مکمل قریب لانے میں مدد ملے گی۔