وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں جاری بدامنی کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ اسلام آباد ائرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں شدت پسند اسرائیل کا تیارکردہ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔
حکومت، کراچی کی بدامنی میں غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کا ذکر کرتی چلی آئی ہے تاہم یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی ملک کا واضح طور پر نام لیا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، رحمان ملک نے کہا کہ’اب تک دو سو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان سے اسرائیلی ساختہ اسلحہ بشمول اے کے ۔ 45 رائفلیں بھی ملی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کی بدامنی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے اور شرپسندوں کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کے بقول گرفتار شدہ افراد تک میڈیا کو رسائی دی جائے گی تاکہ وہ ان سے سوال کر سکے کہ وہ لوگ معصوم افراد کی جانوں سے کیوں کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ’قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔‘
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہیں تاہم ہر قتل ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ چھیاسٹھ فیصد افراد ذاتی دشمنی کی بناء پر قتل کیے جاتے ہیں۔