ہفتہ 13 رمضان 1432هـ - 13 اگست 2011م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 13 رمضان 1432هـ - 13 اگست 2011م KSA 18:43 - GMT 15:43

آٹھ سے دس مسلح افراد کا امریکی کی کوٹھی پر دھاوا

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور سے امریکی کنسلٹینٹ اغوا

ہفتہ 13 رمضان 1432هـ - 13 اگست 2011م
فوری طور پر کسی گروپ نے امریکی شہری کو اغوا کرنے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
فوری طور پر کسی گروپ نے امریکی شہری کو اغوا کرنے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
لاہور۔العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مسلح افراد نے ایک امریکی شہری کو اس کی جائے رہائش سے اغوا کرلیا ہے۔

لاہور پولیس کے حکام نے بتایا ہے کہ آٹھ سے دس مسلح افراد نے ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں واقع امریکی کی جائے رہائش پر ہفتے کو علی الصباح ساڑھے تین بجے کے قریب دھاوا بولا تھا اور انھوں نے کوٹھی کے محافظوں سے یہ کہہ کر دروازہ کھلوایا کہ وہ انھیں سحری کے لیے کھانا دینا چاہتے ہیں۔اس کے بعد وہ اندر داخل ہو گئے اور امریکی شہری کو اغوا کرکے لے گئے۔ایک پولیس افسر عتیق الرحمان نے بتایا ہے کہ فوری طورپر حملے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

ایک اور پولیس افسر شہزادہ سلیم نے بتایا کہ مسلح افراد ایک سے زیادہ گاڑیوں پر سوار تھے۔انھوں نے کوٹھی کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کے بعد تین نجی سکیورٹی گارڈز پر قابو پالیا اورغیر ملکی کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔انھوں نے مزید بتایا کہ امریکی شہری پاکستان کے مختلف شہروں کا سفر کرتا رہتا تھا۔وہ آیندہ سوموار کو واپس امریکا روانہ ہونے والا تھا اور وہ جمعرات ہی کو اسلام آباد سے لاہور پہنچا تھا۔

اس پولیس افسر کے مطابق امریکی کے اغوا کے بعد لاہور کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کردیے گئے ہیں تاکہ غیر ملکی شہری کو لاہور سے باہر نہ لے جایا جاسکے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس واردات کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن ماضی میں پاکستانی طالبان پر اس طرح غیرملکیوں کو اغوا کرنے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں یرغمال بنائے گئے امریکی کی شناخت وارن وینسٹین کے نام سے کی ہے اور وہ امریکا کے سرکاری امدادی ادارے کے ساتھ مل کر کام کرنے والی ایک فرم جے ای آسٹن ایسوسی ایٹس کا کنٹری ڈائریکٹر بتایا جاتا ہے۔وہ گذشتہ سات سال سے پاکستان میں مقیم تھا اور چار سے پانچ سال سے لاہور میں رہ رہا تھا۔امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں اغوا ہونے والے امریکی شہری کے سلسلہ میں پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے۔

جے ای آسٹن ایسوسی ایٹس کی ویب سائٹ کے مطابق تریسٹھ مسٹر وینسٹین بین الاقوامی ترقی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔وہ پچیس سالہ تجربہ کے حامل ہیں ،چھے غیرملکی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور انھوں نے بین الاقوامی قانون اور اکنامکس میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کررکھی ہے۔اس وقت وہ پاکستانی صنعتوں کی مسابقت کی صلاحیت بڑھانے کے ایک پروگرام پر کام کررہے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عام ہیں اور غیر ملکیوں کو بھی ماضی میں تاوان کے لیے اغوا کیا جاتا رہا ہے۔گذشتہ ماہ پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے دوافراد کو اغوا کرلیا گیا تھا۔بعد میں پاکستانی طالبان کے لیڈر ولی الرحمان محسود نے ان کے اغوا کی ذمے داری قبول کی تھی۔

اسی ہفتے امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں مقیم اپنے شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس ملک میں مقیم امریکی سفارت کاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ان کے علاوہ امدادی رضاکاروں اور صحافیوں کو بھی مقامی میڈیا میں امریکی سی آئی اے کا جاسوس قراردیا جارہا ہے۔

لیکن اس تمام معاملےاور پاکستان میں امریکیوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امدادی رضاکاروں اور صحافیوں کے روپ میں امریکی سی آئی اے نے اپنے ایجنٹوں کی فوج ظفر موج بھرتی کررکھی ہےجو پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہونے سے دریغ نہیں کرتے۔اس سلسلہ میں وہ سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں لاہور میں دو پاکستانیوں کے اندوہناک قتل اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور شناخت کے سلسلہ میں ویکسین ٹیم اور ایک ڈاکٹر کے کردار کا حوالہ دیتے ہیں جبکہ حال ہی میں پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر کیمرون منٹر کی سرگرمیوں پرشدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔