سعودی عرب میں خاتون عالمہ کی عورتوں کی نماز عشاء و تراویح کی امامت

کینیڈا اور امریکا میں خواتین کی امامت کے بعد

نشر في:

سعودی عرب کے سرکار ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت ریاض میں ایک خاتون عالمہ رمضان المبارک کے دوران عشاء اور تراویح کی نمازوں میں خواتین کی باجماعت نماز کی امامت کرارہی ہے۔ ذرائع کےمطابق سعودی عرب میں کسی خاتون عالمہ کا اپنی ہم جنسوں کی امامت کا یہ پہلا واقعہ ہے جسے باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عالمہ مضاوی الطشلان نے جمعرات کی شام دارالحکومت ریاض میں ایک عمارت کے کھلے ہال میں خواتین کی باجماعت نماز تراویح کی امامت کرائی۔ قبل ازیں اسی جگہ پر"عالمی تعارف اسلام کونسل" کے زیراہتمام ایک افطار پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں شہزادی العنود بنت عبدالرحمان بن احمد، ریاض میں کویت کے سفیر نوار الدخیل کی اہلیہ، جاپان کے ثقافتی اتاچی یوکی کو سمیت بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ خیال رہے کہ سلیمانیہ انکلیو میں دیا جانے والا یہ افطار ڈنر صرف خواتین کے لیے مخصوص تھا۔

خواتین کی امامت متنازعہ!!!

چونکہ اسلام میں کوئی عورت خواتین کی جماعت کی امامت کرسکتی ہے تاہم اعتراض اس پر ہے کہ اس کی اقتداء میں مرد نماز نہ پڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عالمہ مضاوی الطشلان کی امامت پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس کینیڈا اور امریکا کی دو خواتین کی امامت کے تنازع کی باز گشت کئی سال بعد اب بھی سنائی دیتی ہے، کیونکہ انہوں نے نماز جمعہ کے اجتماعات میں مرد و خواتین کی جماعت کی امامت کی تھی۔

کینیڈین مصنفہ راھیل رازا نے برطانیہ کے آکسفورڈ سٹی میں ایک اسلامی مرکز میں مرد و زن کی جماعت کی امامت کرائی تھی جس پر عالم اسلام میں سخت تنقید کی گئی تھی۔

راھیل رازا ہی اس غیر شرعی عمل کی مرتکب نہیں ہوئی بلکہ اس سے قبل سنہ 2008ء میں امریکا کی ایک نو مسلم امینہ ودود نے بھی مرد اور عورتوں کی ایک مختصر سی جماعت کی امامت کرائی تھی۔

برطانوی اخبار"گارڈین" کو انٹرویو میں امینہ ودود نے کہا تھا کہ "قرآن اور احادیث کے مطالعے کے دوران اسے کہیں بھی خواتین کی امامت کی ممانعت نہیں ملی۔ بلکہ آنحضور صلی علیہ وسلم نے خود عہد نبوت میں بھی عورتوں کو نمازوں کی امامت پر مامور فرمایا تھا اور عورتوں کی اقتداء میں مرد و زن سب نماز ادا کرتے تھے"۔

ممتاز عالم دین اور مفکر ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے امینہ ودود کے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا تھا۔ اپنےایک فتوے میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ اسلام میں مردوں کی جماعت کے لیے کسی خاتون کو امام بنانا جائز نہیں اور امینہ نے مردوں پر مشتمل باجماعت نماز کی امامت کر کے چودہ صدیوں پر پھیلی اسلامی تعلیمات سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امامت اصلا مردوں کا فریضہ ہے اور کوئی عورت مردوں کو نماز نہیں پڑھا سکتی۔

امینہ ودود کی امامت پر سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز آل شیخ نے بھی سخت تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امینہ ودود کا مردوں کی جماعت کا امام بننا اسلام دشمنی اور حدود اللہ سے تجاوز ہے۔