دو امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ کی کارروائیوں کے ذمے دار ایک سنئیر لیڈر حال ہی میں سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں مارے گئے ہیں۔
امریکی حکام نے سی آئی اے کے ڈرون حملے میں مارے گئے القاعدہ کے چیف آف آپریشنز کی شناخت ابو حفص الشہری کے نام سے کی ہے۔ وہ سعودی شہری تھے۔ انھیں القاعدہ کی مرکزی کمان میں ایک سنئیر شخصیت قرار دیا گیا ہے اور وہ پاکستان کے اندر القاعدہ کی کارروائیوں کے ذمے دار تھے۔
امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے لیڈر پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں گذشتہ چند روز کے دوران بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔تاہم انھوں نے حملے کی مزید تفصیل بتانے سے انکار کیا ہے کہ یہ حملہ پاکستان کے کس خاص علاقے پر کیا گیا تھا اور یہ کہ انھیں شہری کی ہلاکت کا کیسے سراغ لگا ہے۔
القاعدہ کے پاکستان میں آپریشنز چیف کی حیثیت سے ابو حفص الشہری کی ذمے داریوں میں ملک کے دوسرے جنگجو گروپوں اورخاص طورپر طالبان کے نیٹ ورک سے رابطے استوار کرنا تھا اور طالبان کے جنگجوٶں کے ساتھ مل کر سرگرمیوں کو مربوط بنانا تھا۔خطے میں امریکا مخالف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور پاکستان کے اندر حملوں کے لیے طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی ان کی ذمے داری تھی۔
ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''ابو حفص کی ہلاکت پاکستان میں القاعدہ کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔وہ گروپ کے آپریشنل اور انتظامی امور میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور ان کی موت اب القاعدہ کے نئے لیڈر ڈاکٹر ایمن الظواہری کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے''۔
اس عہدے دار کے مطابق الشہری القاعدہ کے ایک اور لیڈر عطیہ عبدالرحمان کی پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اگست میں ہلاکت کے بعد ان کی جگہ بعض ذمے داریاں سنبھالنے والے تھے۔عطیہ عبدالرحمان مئی میں ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کی چھاپہ مار کارروائی میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے دوسرے نمبر کے لیڈر کے طور پر ابھرے تھے اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کے بعد وہی اس گروپ کے بڑے لیڈرمانے جاتے تھے۔
القاعدہ کے ایک اور سنئیر لیڈر یونس الموریتانی کو حال ہی میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں امریکی اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا ہے۔امریکی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں القاعدہ کے لیڈروں کی ہلاکت اور گرفتاریوں پر اس دہشت گرد تنظیم کو پے درپے سخت دھچکے لگے ہیں اور وہ اب 11 ستمبر 2001ء کو امریکا پرحملوں جیسی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے اور اس کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک خطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔