امریکا افغانستان میں ناکامیوں پرالزام تراشی بند کرے:پاکستانی عہدے دار
حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی دباٶ
پاکستان کے ایک اعلیٰ عسکری عہدے دار نے امریکا پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کے ان کے ملک پر الزامات عاید کرنے کے بجائے افغانستان میں طالبان اور دوسرے مزاحمت کاروں کو شکست دینے پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔
امریکا نے دوروز پہلے پاکستان پر افغانستان میں غیرملکی فوجوں سے برسرپیکار حقانی نیٹ ورک پر روابط کا الزام عاید کیا تھا۔حقانی نیٹ ورک کو امریکیوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کابل میں امریکی سفارت خانے اور دوسری عمارتوں پر حملے کا ذمے دار ٹھہرایا جارہا ہے۔بیس گھنٹے تک جاری رہے اس حملے میں ستائیس افراد مارے گئے تھے۔
امریکی وزیردفاع سمیت بعض عہدے داروں نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک سے روابط کا الزام عاید کیا تھا۔پاکستان کے ایک سنئیر فوجی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ''جب بھی کابل یا افغانستان میں کسی اور جگہ کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے ،تو پھر پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے لیکن ہم پر الزام عاید کرنے کے بجائے انھیں سرحد کے اپنی جانب دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے''۔
اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر کیمرون منٹر نے ہفتے کے روز ریڈیو پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''حقانیوں کے اسلام آباد حکومت سے روابط کے ثبوت موجود ہیں''۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ابھی تک کشیدہ ہیں اور انھیں بہتر بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے بھی ایک غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''دونوں ممالک کو کشیدگی سے پاک تعلقات کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے''۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے 11ستمبر 2001ء کے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کسی بھی مغربی ملک سے زیادہ جانی نقصان اٹھایا ہے اور اس جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے کے بعد اس کے پانچ ہزار کے قریب فوجی شہید ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکی عہدے دار پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر الزام تراشی کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے گذشتہ ہفتے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ امریکا افغانستان میں اپنی فورسز کو پاکستان میں جڑیں رکھنے والے جنگجوٶں کے حملوں سے بچانے کے لیے ہرممکن اقدامات کرے گا۔
امریکا کے ایک سنئیر عہدے دار نے بتایا ہے کہ وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے اتوار کو ساڑھے تین گھنٹے تک بات چیت میں کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس عہدے دار کے مطابق ملاقات میں انسداد دہشت گردی کے ایشو اور خاص طور پر حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
پاکستان کے مذکورہ فوجی عہدے دار کا کہنا تھا کہ ''امریکیوں کا یہ کہنا ہے کہ حملہ آور جنگجو پاکستان سے کابل پہنچے تھے لیکن سرحدی علاقے سے ان کے کابل پہنچنے تک انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔انھیں گرفتار کرنا امریکیوں کی ذمے داری ہے ،ہماری نہیں''۔
پاکستان ماضی میں متعدد مرتبہ امریکا سے کہہ چکا ہے کہ وہ طالبان قیادت یا حقانی نیٹ ورک کی ملک کے کسی علاقے میں موجودگی سے متعلق ٹھوس معلومات فراہم کرے جبکہ امریکا طالبان اور دوسرے جنگجوٶں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر گاہے گاہے ایسے ہی دباٶ ڈالتا رہتا ہے۔