پاکستان نے امریکا کی جانب سے اپنے طاقتور خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر افغانستان میں امریکی اہداف پر مزاحمت کاروں کے حملوں کی معاونت کرنے سے متعلق الزامات کی مذمت کر دی ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک سے تعلق کے حوالے سے امریکیوں کے دعووں کو محض الزامات قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کو اپنے ایک اتحادی ملک کے طور پر کھونے کا خطرہ مول لے رہا ہے لیکن وہ پاکستانی حکومت اور اس کے عوام کو الگ تھلگ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
حنا ربانی کھر نے نیویارک سے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر امریکی ایسا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو یہ ان کی اپنی قیمت پر ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ایک اتحادی کی بے توقیری اور سُبکی کے لیے جو کچھ کہا جارہا ہے ،وہ بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے''۔
پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی جمعہ کو امریکا کی تنقید پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''وہ (امریکی)ہمارے ساتھ بھی نہیں رہ سکتے اور وہ ہمارے بغیر بھی نہیں رہ سکتے۔اس لیے میں ان سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر وہ ہمارے بغیر نہیں رہ سکتے تو انھیں ہمارے ساتھ روابط میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے''۔
انھوں نے یہ بات امریکا کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مائیک مولن کے گذشتہ روز سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی ہے جس میں انھوں نے پاکستانی آئی ایس آئی پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے کابل میں گذشتہ ہفتے امریکی سفارت خانے پر حملے اور اس سے پہلے امریکی فوجیوں پر ٹرک بم حملے کی منصوبہ بندی کے لیے حقانی نیٹ ورک کی معاونت کی تھی۔
مسٹر مائیک مولن نے حقانی نیٹ ورک پر 28جون کو کابل میں انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر حملے اور دوسرے حملوں کا بھی الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ ہمارے پاس اس حوالے سے قابل اعتبار معلومات موجود ہیں۔انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ حقانی نیٹ ورک آئی ایس آئی کے ایک آلہ کار کے طور پر کام کررہا ہے۔
انھوں نے سیدھے سبھاٶ پاکستان پر الزام عاید کیا کہ''وہ افغانستان میں تشدد کو برآمد کررہا ہے اور وہاں کسی بھی کامیابی کے لیے خطرات کا موجب بن رہا ہے۔ متشدد انتہا پسندوں کو استعمال کرنے کے لیے پالیسی سے پاکستان اور خاص طور پر پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی ہماری تزویراتی شراکت داری کو نقصان پہنچارہے ہیں اور اس سے پاکستان کو بھی ایک باوقار ملک کی حیثیت سے نقصان پہنچ رہا ہے''۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا کے ایک سنئیر عہدے دار نے پاکستان کی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی پر افغانستان میں اس طرح براہ راست حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔ماضی میں امریکی عہدے دار عام طور پر پاکستان کے خلاف نجی گفتگوٶں یا غیرملکی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتوں میں اس طرح کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں لیکن اب امریکی کھلے عام پاکستان پر الزامات عاید کررہے ہیں۔
تاہم مسٹر مائیک مولن نے پاکستان کے خلاف اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ کوئی ایسا اشارہ دیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سے ناتا نہ توڑنے پر امریکا پاکستان کے خلاف کیا کارروائی کرے گا۔
اس سے پہلے امریکی وزیردفاع لیون پینیٹا سمیت بعض عہدے داروں نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک سے روابط کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ ہفتے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ امریکا افغانستان میں اپنی فورسز کو پاکستان میں جڑیں رکھنے والے جنگجوٶں کے حملوں سے بچانے کے لیے ہرممکن اقدامات کرے گا۔
پاکستان کے ایک اعلیٰ عسکری عہدے دار نے چند روز قبل امریکا پر زوردیا تھا کہ وہ اپنی ناکامیوں کے ان کے ملک پر الزامات عاید کرنے کے بجائے افغانستان میں طالبان اور دوسرے مزاحمت کاروں کو شکست دینے پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔
حقانی نیٹ ورک کو امریکیوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کابل میں امریکی سفارت خانے اور دوسری عمارتوں پر حملے کا ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔بیس گھنٹے تک جاری رہے اس حملے میں ستائیس افراد مارے گئے تھے۔ اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر کیمرون منٹر نے گذشتہ ہفتے کے روز ریڈیو پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''حقانیوں کے اسلام آباد حکومت سے روابط کے ثبوت موجود ہیں''۔
پاکستان کے ایک سنئیر فوجی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ''جب بھی کابل یا افغانستان میں کسی اور جگہ کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے، تو پھر پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے لیکن ہم پر الزام عاید کرنے کے بجائے انھیں سرحد کے اپنی جانب دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے''۔
اس عہدے دار کا کہنا تھا کہ ''امریکیوں کا یہ کہنا ہے کہ حملہ آور جنگجو پاکستان سے کابل پہنچے تھے لیکن سرحدی علاقے سے ان کے کابل پہنچنے تک انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔انھیں گرفتار کرنا امریکیوں کی ذمے داری ہے، ہماری نہیں''۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے 11 ستمبر 2001ء کے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کسی بھی مغربی ملک سے زیادہ جانی نقصان اٹھایا ہے اور اس جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے کے بعد اس کے پانچ ہزار کے قریب فوجی شہید ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکی عہدے دار پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر الزام تراشی کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے ہیں۔
پاکستان ماضی میں متعدد مرتبہ امریکا سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ طالبان قیادت یا حقانی نیٹ ورک کی ملک کے کسی علاقے میں موجودگی سے متعلق ٹھوس معلومات فراہم کرے جبکہ امریکا طالبان اور دوسرے جنگجوٶں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر گاہے گاہے ایسے ہی دباٶ ڈالتا رہتا ہے.اب ایک مرتبہ پھر پاکستان کو دباٶ میں لانے کے لیے الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔