شاہ عبداللہ نے سعودی خواتین کو ووٹ کا حق دے دیا

خواتین بلدیاتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لے سکیں گی

نشر في:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے خواتین کو ووٹ کا حق دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے وہ آیندہ بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔

شاہ عبداللہ نے سعودی عرب کی نئی شوریٰ کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کو کونسل کی رکنیت کا حق دینے کا بھی اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ خواتین کو مستقبل میں مشاورتی کونسل کی رکن مقرر کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم خواتین کو معاشرے میں دیوار سے لگانے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم نے سنئیر علماء اور دوسروں سے مشاورت کے بعد شریعت کے مطابق خواتین کو معاشرے میں حاصل تمام کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور شوریٰ کونسل کی نئی مدت سے خواتین کو بھی اس کی رکنیت دی جائے گی''۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ ''خواتین امیدوار کے طور پر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکیں گی اور انھیں ووٹ کا بھی حق حاصل ہو گا''۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں صرف بلدیاتی اداروں کے نمائندوں ہی کا انتخاب کیا جاتا ہے اور دوسرے اداروں کے ارکان کو شاہ کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے۔

سعودی فرمانروا کے اعلان کردہ ان اقدامات پر آیندہ جمعرات کو ہونے والے بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے بعد عمل درآمد ہو گا۔ان انتخابات میں خواتین پر ووٹ ڈالنے اور بطور امیدوار حصہ لینے پر پابندی عاید ہے۔

سعودی عرب میں ایک عرصے سے انسانی حقوق کے کارکنان خواتین کو معاشرے میں زیادہ حقوق دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب میں خواتین پر مردوں کی اجازت کے بغیر سفر، ملازمت اور میڈیکل آپریشنز پر پابندی عاید ہے اور وہ ڈرائیونگ بھی نہیں کرسکتی ہیں۔