زندوں اور مُردوں کی ارواح خواب میں ملاقات کرتی ہیں: ماہرین
"خواب حقیقت یا فسانہ؟"ماہرین کی العربیہ کے پروگرام میں گفتگو
عرب علماء اور ماہرین نفسیات نے خوابوں کی تعبیر میں نجومیوں اور غیر متعلقہ لوگوں کے بڑھتے عمل دخل پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجومی خواب کی غلط تعبیر پیش کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مُردہ لوگوں کی ارواح زندہ لوگوں سے خواب میں ملاقات کرتی ہیں۔ نیز خوابوں کی تعبیر کے بارے میں جان کاری کی سب سے زیادہ خواہش مند خواتین ہوتی ہیں جو اطمینان قلب کے لیے خواب کی تعبیر تلاش کرتی ہیں۔
ماہرین نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام "فیس دی پریس" میں صحافی داؤد الشریان سے"خواب اور اس کی تعبیر" کے موضوع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں معروف سعودی عالم دین اور خوابوں کی تعبیر کے ماہر الشیخ عائض العصیمی، اسلامک ریسرچ کونسل کے رکن ڈاکٹر یوسف الحارثی، خوابوں کے ماہر یوسف منصور اور شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں نفسیات کے استاد پروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق الحمد شریک گفتگو ہوں گے۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماہرین نے خواب اور اس کی تعبیر اور معاشرے میں مُروجہ مختلف نظریات پر کھل کر گفتگو کی۔ علماء نے اس بات پراتفاق کیا کہ زندہ لوگوں اور مردوں کی روحیں ایک دوسرے سے حالت خواب میں ملاقات کرتی ہیں۔ نیز بعض اصحاب کے ساتھ خواب دیکھنے والے کی کیفیت جاننے کے لیے ایک ہمزاد بھی ہوتا ہے جو انہیں خواب کی حقیقت بتاتا ہے۔
ماہرین کے درمیان سچے اور جھوٹے خوابوں کے بارے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جھوٹے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور سچے خواب خدا کی طرف سے۔ نیک خواب اعمال صالحہ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ علماء نے وضاحت کی کہ خوابوں کی روشنی میں مرحومین کی وصیتوں پر عمل کرنے کے لیے کوئی شرعی ہدایت موجود ہیں۔ ان باتوں کا تعلق لوگوں کے اپنے خود ساختہ نظریات سے ہے۔
خوابوں کی تعبیر میں ہمزاد سے مدد کا حصول

پروگرام"فیس دی پریس" میں بات کرتے ہوئے ممتاز عالم دین ڈاکٹر عائض العصیمی نے کہا کہ "نیند کی حالت میں انسان دو طرح کے خواب دیکھتا ہے۔ ایک وہ خواب جو دیکھنے والے کو بیداری کے بعد بھی شروع سے آخر تک مکمل یاد رہتے ہیں۔ وہ سچے خواب ہوتے ہیں جو اعمالِ صالحہ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ خواب جن کا بیشتر حصہ بھول جائے وہ جھوٹے خواب اور شیطانی خیالات کا نتیجہ ہوتے ہیں، ان کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی"۔
اسی سوال پر بات کرتے ہوئے ماہر نفسیات ڈاکٹر الحارثی نے کہا کہ"نیند میں پیش آنے والے واقعات انسان کی بیداری کی حالت کے عکاس ہوتے ہیں۔ انسان جو کچھ بیداری کی حالت میں کرتا ہے وہی کچھ خواب میں دیکھتا ہے"۔ علامہ یوسف منصور نے کہا کہ نیک خواب صرف نیک لوگ دیکھتے ہیں تاہم سچے اور نیک خواب میں فرق ہے کیونکہ سچا خواب کوئی بھی دیکھ سکتا ہے البتہ نیک خواب صرف نیک لوگ ہی دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرزاق الحمد نے دیگر علماء کے اس خیال کو رد کیا کہ خواب خدا یا شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے بچپن کے حالات بڑے ہونے کے بعد مختلف شکلوں میں خواب کی شکل میں اس کے سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا نیک خواب صرف انبیاء دیکھ سکتے ہیں، کیونکہ نبی کا خواب جھوٹا اور برائی کا مظہر نہیں ہو سکتا۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں عالم دین شیخ العصیمی نے کہا کہ خوابوں کی تعبیر کا تعلق ماضی، حال اور مستقبل میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت نہیں۔ عموما خواب کی تعبیر کو پیشہ ور حضرات اور ماہرین نفسیات مستقبل کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواب اورا س کی تعبیر ایک شرعی مسئلہ ہے جس کا علم النجوم سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرزاق نے کہا کہ معاشرے میں خوابوں کے بارے میں پھیلتے غلط عقائد کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ خوابوں کی تعبیر کو پیشہ بنانے والے نو سر بازوں سے نجات دلائی جائے۔ اس سلسلے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اس موقع پر الشیخ یوسف منصور نے کہا کہ خواب کی تعبیر پیش کرنے والے بعض حضرات تعبیر کے حصول کے لیے اپنے ہمزاد سے بھی مدد لیتے ہیں جو ان کے پاس صاحب خواب کی اصل کیفیتِ خواب پیش کرتا ہے۔
زندوں اور مُردوں کی ارواح کی ملاقات

العربیہ کے پروگرام میں ماہرین نے خواب کی تعبیر اور اس کی حقیقت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ زندہ اور مردہ لوگوں کی ارواح نیند کی حالت میں ملاقات کرتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ العصیمی نے کہا کہ "خواب قدرت خداوندی کا ایک کرشمہ ہوتا ہے جس پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا"۔
نابینا کے خواب کے بارے میں بھی مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض علماء کا کہنا تھا کہ پیدائیشی نابینا چونکہ "رویت" کی صلاحیت نہیں رکھتا لہذا اس کے خواب کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہو گی البتہ کوئی شخص پہلے بصارت رکھتا ہو لیکن کسی وجہ سے اس کی بینائی چلی جائے تو اس کا خواب عام بینائی رکھنے والے لوگوں کے خوابوں ہی کی طرح ہو گا۔ ڈاکٹرالحمد نے اسی بارے میں کہا کہ چونکہ نابینا شخص کے سامنے کسی چیز کی اصل تصویر نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ اس کی خواب کو حقیقت نہیں قرار دیا جا سکتا۔
اس سوال پر کہ اسلاف کی کتب میں یہ بات مذکور ہے کہ زندہ اور مردہ لوگوں کی ارواح باہم ملاقات کرتی ہیں بیشتر ماہرین نے اس پر اتفاق کیا۔ تاہم ڈاکٹر العصیمی کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس کے بارے میں بعض روایات بھی بیان کی جاتی ہیں تاہم اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی جا سکتی۔
ڈاکٹر الحارثی نے اسی بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا جس میں زندوں اور مردوں کی ارواح کی بحالت نیند ملاقات ثابت کی گئی تھی۔ تاہم ڈاکٹر الحمد نے کہا کہ کسی زندہ شخص کا فوت شدہ شخص کو دیکھنا اور اس کی حالت کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا پیش گوئی کے زمرے میں آتا ہے۔
ماہرین نے عوام بالخصوص خواتین پر زور دیا کہ وہ ہر قسم کے خوابوں کی تعبیر کے لیے بے تاب نہ ہوں۔ اگر کسی خواب کی تعبیر مقصود بھی ہو تو اس بارے میں نجومیوں کے بجائے علماء سے رجوع کریں۔