پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں منگل کے روز ایک مسافر بس پر مبینہ فرقہ ورانہ حملے میں سولہ افراد جاں بحق ہو گئے۔
کوئٹہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کیا جانے والا اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔ ایک اعلیٰ پولیس اہلکار حامد شکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ حملہ ایسے مسلح افراد نے کیا، جو ایک پک اپ میں سوار جائے واردات تک پہنچے تھے۔
حملہ آوروں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مضافات میں اس بس کو روکا اور پھر مسافروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس حملے میں 13 مسافر جاں بحق اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے بہ قول اس بس کے مسافر کوئٹہ سے واپس جا رہے تھے اور ان کا تعلق زیادہ تر ہزارہ برادری کے شیعہ مسلمانوں سے تھا۔
ان اطلاعات کے برعکس بس کے زخمی ہونے والے مسافروں میں سے ایک حسین نے خبر ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ کوئٹہ سے قریب 45 منٹ کی مسافت پر اس بس کے مسافروں میں سے ہی دو افراد نے کھڑے ہو کر ڈرائیور سے رکنے کے لیے کہا اور پھر انہوں نے باقی مسافروں پر بے دریغ فائرنگ کرنا شروع کر دی۔
مسافروں میں سے دس موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ باقی تین نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ بس میں مجموعی طور پر قریب بیس افراد سوار تھے۔ زخمیوں کو بعد میں اسی بس میں ایک قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا، جہاں اس خونریز کارروائی پر مشتعل مظاہرین نے اس بس کو خالی کرا کے اسے آگ لگا دی۔
اس حملے کے بعد ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رہنما عبدالخالق نے پاکستان کے ایک نجی ٹیلی وژن چینل "جیو" کو بتایا کہ پاکستان میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور ’ہمیں بربریت پسند عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے‘۔
پاکستان کے اسی صوبہ بلوچستان میں بیس ستمبر کو بھی مستونگ کے ضلع میں زیارتوں کے لیے ایران جانے والے شیعہ زائرین کی ایک بس پر ایسا ہی ایک خونریز حملہ کیا گیا تھا، جس میں 26 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
کوئٹہ کے مضافات میں اس حملے کی فوری طور پر کسی بھی مسلح گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے شیعہ مسلمانوں پر خونریز حملوں میں واضح طور پر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔