پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدرکے نمائندہ خصوصی مارک گروسمین نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ امریکا اور پاکستان نے ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
گروسمین یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں، جب امریکا کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خاصے کشیدہ ہیں۔ مارک گروسمین نے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقاتیں کیں۔
بعد ازاں مارک گروسمین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اہم ہیں اور موجودہ علاقائی صورتحال کے پس منظر میں ان تعلقات نے اور بھی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ پاکستان خطے میں ایک اہم شراکت دار ہے جبکہ دہشتگردی میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہونے کی حیثیت سے اس کی دنیا میں بھی بہت اہمیت ہے۔ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی رفتار آنے والے دنوں میں تیز ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر خطے کے امن و استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج ہماری زیادہ تر بات چیت دو طرفہ سطح پر تھی کہ کس طرح اس پارٹنرشپ کو بڑھایا جائے، جو کہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لئے اہم ہے‘‘۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ بات چیت کا عمل جاری رہے گا اور جب یہ بات چیت آگے بڑھے گی تو ہمارے ذہن ملیں گے اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
امریکی نمائندہ خصوصی مارک گروسمین نے کہا کہ یہ ان کا پاکستان کا پانچواں دورہ ہے اور انہوں نے یہاں پاکستانی قیادت سے، جو ملاقاتیں کی ہیں، ان میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ استنبول اور بون کانفرنس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آنے سے قبل انہوں نے وسط ایشیائی ریاستوں بیجنگ، ترکی اور بھارت کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بین الاقوامی برادری اس خطے کو محفوظ و مستحکم بنانے کے لیے افغانستان کی مدد کرے۔’’مستحکم افغانستان خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے اور پاکستان اور افغانستان کے لیے سکیورٹی انتہائی اہم ہے‘‘
گروسمین نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان اور امریکا کے ذہن ملے ہوئے ہیں۔ ہم نے دو طرفہ تعلقات پر بھی بات کی ہے، جو امریکا اور پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ ہم نے مستقبل کے بارے میں بہت سی بات چیت کی کہ کس طرح پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری رکھے جائیں اور اس کام کو جاری رکھا جائے، جو ہم مل کر کرنا چاہتے ہیں۔