پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام شمال مغربی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں پانچ سرکردہ کمانڈرمارے گئے ہیں۔
پاکستان کے انٹیلی جنس حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک کے نزدیک امریکی ڈرون نے جمعرات کو ایک گاڑی پر چھے میزائل داغے جس کے نتیجے میں مولوی نذیر گروپ کے ڈپٹی لیڈر خان محمد المعروف سیٹھی سمیت پانچ جنگجو ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔یہ علاقہ پاکستانی طالبان کے سرکردہ کمانڈر مولوی نذیر کے حامیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ تمام ہلاک شدگان ایک ڈبل کیبن پک اپ میں سوار تھے اور وہ جنوبی وزیرستان کے گاٶں تورا گولا سے قریب ہی واقع علاقے اعظم ورسک کی جانب جارہے تھے۔خان محمد مولوی نذیر کے رشتے میں کزن بھی تھے۔
طالبان کے ایک کمانڈر کے مطابق حملے میں مولوی نذیر کے چھوٹے بھائی حضرت عمر ،خان محمد ،معراج وزیر اور اشفاق وزیر مارے گئے ہیں۔گروپ نے حملے میں مارے گئے پانچویں شخص کی شناخت بتانے سے گریز کیا ہے۔مقامی انٹیلی جنس حکام کے مطابق امریکی میزائل حملے میں مولوی نذیرگروپ کے تین کمانڈرمارے گئے ہیں۔تاہم ان رپورٹس کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔
مولوی نذیرگروپ پر افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے ساتھ مل کر امریکا کی قیادت میں نیٹو فوجیوں پر حملوں کا الزام ہے۔طالبان کے اس دھڑے نے جون میں دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے پاکستانی علاقوں پر اپنے جاسوس طیاروں کے ذریعے میزائل حملے بند نہ کیے تو سرحدپار حملوں میں تیزی لائی جائے گی۔
مولوی نذیر گروپ کے تحت بارہ سو کے لگ بھگ جنگجو قبائلی علاقوں میں موجود ہیں لیکن وہ پاکستانی ریاست کے مخالف نہیں۔ پاکستانی حکومت نے 2007ء میں اس دھڑے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت وہ اپنے علاقوں میں حکومت مخالف جنگجوٶں کو پناہ نہیں دیں گے اور اس کے جواب میں پاکستانی فوج وزیرستان میں جنگجوٶں کے خلاف کارروائی کے وقت اس گروپ کو نشانہ نہیں بنائے گی۔چنانچہ 2009 میں جنوبی وزیرستان میں طالبان کے ایک دھڑے کے خلاف کارروائی کے دوران اس گروپ کے جنگجوٶں سے صرف نظر کیا گیا تھا.
امریکا اور پاکستان کے درمیان ڈرون حملوں اورافغانستان میں پاکستانی علاقوں سے مسلح جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے چند روز قبل ہی پاکستان کے دورہ کے موقع پر فوجی اور سیاسی قیادت پر وزیرستان میں موجود طالبان جنگجوٶں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہاں ان کے محفوظ ٹھکانے ختم کیے جائیں.
سی آئی اے نے اپنے ڈرون طیاروں کے ذریعے اس سال اب تک پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں پچاس سے زیادہ میزائل حملے کیے ہیں اور ان میں زیادہ تر حملے شمالی وزیرستان پر کیے گئے ہیں۔ امریکا کے ایک تھنک ٹینک نیوامریکا فاٶنڈیشن کے مطابق اس سال اب تک امریکا کے ڈرون حملوں میں تین سو پچیس جنگجو مارے جاچکے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں میں جنگجو یا ان کے حامی مارے جارہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کے حوالے سے سوالات اٹھا رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اوباما انتظامیہ نے ایبٹ آباد میں 2مئی کو امریکی خصوصی فورسز کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے پاکستانی علاقوں میں سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے ذریعے میزائل حملے تیز کر رکھے ہیں۔
درایں اثناء پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سبزی منڈی میں بم دھماکے سے گیارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق ان میں تین کی حالت نازک ہے۔قریباً پانچ کلوگرام وزنی بم کھانا پکانے والے تیل کے خالی کنستر میں چھپایا گیا تھا۔بم دھماکے سے متعدد دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔