پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کا فقدان ختم ہو گیا ہے اور اب دونوں ممالک میں اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔
مالدیپ میں سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات سے تعلقات میں جو بہتری آئی تھی اس کو مالدیپ میں ہونے والی حالیہ ملاقات سے اور بھی تقویت ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے اعظم نے مذاکرات کے آئندہ دور میں ٹھوس پیش رفت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ دہشت گردی، پانی، سرکریک، سیاچن اور کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور پاک بھارت مذاکرات ماضی کی طرح اب بھی جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے اعظم کے بیانات سے یہ بالکل واضح ہے کہ مستقبل کی سمت آگے بڑھنے کی ہے، مثبت ہے اور یہ پہلے سے زیادہ تعمیری اور نتیجہ خیز ہو گی کیونکہ جب ہم صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کے عوام بھی صبر کرتے ہیں تا کہ بات چیت کے بہتر نتائج حاصل ہو سکیں۔‘‘
سارک تنظیم کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سارک متحرک اور فعال بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سارک تنظیم خطے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور توقع ہے کہ اگلے دس سال میں آسیان اور یورپی یونین کی طرح ہو گی یا ایک نیا ماڈل متعارف کرائے گی جو جنوبی ایشیاء کے لوگوں کی سماجی اور اقتصادی رہنمائی کرے گی۔‘‘
حنا ربانی کے بہ قول یہ امید بھی ہے کہ آئندہ دس سال بعد جب سارک اجلاس ہو گا تو اس میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات مرکزی ایونٹ نہیں ہو گا اس بات کے دو مطلب ہیں یعنی ایک تو یہ کہ سارک بہت مضبوط ہو کر دیگر اہم مسائل پر غور کر رہی ہو گی اور دوسرا یہ کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتنے نارمل ہو چکے ہوں گے جیسے کہ دیگر رکن ممالک کے تعلقات ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سارک ریجنل بینک کے قیام کی تجویز بھی دی ہے۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ چین کی سارک تنظیم میں دلچسپی خوش آئند ہے انہوں نے کہا کہ ہم چین کی سارک تنظیم میں دلچسپی کو بہت اچھے جذبات کے ساتھ دیکھتے ہیں ہم ترکی جیسے ملکوں کی سارک میں مبصر کی حیثیت سے شمولیت میں دلچسپی کو بھی مثبت انداز سے دیکھتے ہیں۔‘‘
حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ روس سٹیل مل کی بہتری کے لیے پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر دے گا۔