پاکستان کے کسٹمز حکام نے غیرقانونی دستاویزات پر بیاسی باز بیرون ملک اسمگل کرنے کی ایک قطری سفارت کار کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور ان بازوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کسٹمز حکام نے کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پراتوار اور سوموار کی درمیانی شب شیخ عبداللہ نام کے ایک قطری سفارت کار کی جانب سے باز لے جانے کی کوشش ناکام بنائی ہے۔ان میں سے تین باز اس دوران مر گئے ہیں۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ شیخ عبداللہ قطر کے شاہی خاندان کے رکن ہیں۔ان کے پاس بازوں کو دوبارہ برآمد کرنے کا اجازت نامہ تو موجود تھا لیکن وہ اس میں لکھی تعداد سے کہیں زیادہ باز لے کرواپس جارہے تھے جس کے بعد انھیں ہوائی اڈے پر روک لیا گیا۔
موقر انگریزی روزنامے ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق شیخ عبداللہ جب قطر جانے والے ایک طیارے پر سوار ہونے کے لیے آئے تو ان کے ساتھ ان کے ملازموں کے پاس اناسی باز تھے جبکہ ان کو صرف چوبیس بازوں کو دوبارہ برآمد کرنے کے لیے اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اس طرح کے اجازت نامے پاکستان کی وزارت خارجہ جاری کرتی ہے۔
جب کسٹمز حکام نے مسٹر عبداللہ سے باقی پچپن بازوں کو لے جانے کے لیے اجازت نامہ طلب کیا تو انھوں نے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک خط دکھایا جس میں لکھا تھا کہ قریباً ساٹھ بازوں کو دوبارہ برآمد کرنے کے اجازت نامہ پر ابھی کام جاری ہے اور یہ ہنوز جاری نہیں کیا گیا۔
کراچی ہوائی اڈے کے جناح ٹرمینل پر متعین کسٹمز کے اعلیٰ عہدے دار حسن سردار نے بتایا کہ شیخ عبداللہ کے پاس موجود تمام بازوں کو قبضے میں لے لیا گیا اور انھیں اڑتالیس گھنٹے میں باقی بازوں کو لے جانے کے لیے اجازت نامہ پیش کرنے کا وقت دیا گیا تھا۔ان کے بہ قول ان صاحب کے پاس سفارتی پاسپورٹ تھا اور انھیں سفارت کار کا درجہ حاصل تھا ،اس لیے انھیں شہر میں ان کی جائے قیام پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
کسٹمز حکام کا کہنا ہے قطری سفارت کار بازوں کو لے جانے کے لیے دیے گئے دو دن کے وقت میں ضروری کاغذات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد ان بازوں کو معاملہ حل ہونے تک صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات کے حوالے کرنے کے لیے ایک خط لکھا گیا ہے۔اگر قطری شیخ عبداللہ ضروری کاغذات لے آتے ہیں تو باز ان کے حوالے کردیے جائیں گے۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے محکمہ جنگی حیات کے ایک عہدے دار رشید خان کا کہنا ہے کہ وہ پکڑے گئے بازوں کو حاصل کرنے کے لیے کسٹمز حکام سے رابطے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ یہ پرندے ان کے حوالے نہیں کررہے ہیں حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنی بڑے تعداد میں ان پرندوں کو رکھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ باز ایک حساس پرندہ ہے،اگر اسے مناسب طریقے سے نہ رکھا جائے تو وہ مرجاتا ہے جبکہ پکڑے گئے بازوں میں سے بعض پہلے ہی مرچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق غیرملکی شکاری پاکستان میں بین الاقوامی تحفظ کے حامل ہوباڑہ کے شکار کے لیے آتے ہیں ،اس کے لیے وہ سدھائے ہوئے بازوں کو استعمال کرتے ہیں ۔شکاری ان بازوں اور شکروں کو کراچی میں غیرقانونی مارکیٹس سے خرید کرتے ہیں حالانکہ ان کی تجارت ممنوع ہے۔
پاکستانی حکومت غیرملکی شکاریوں کو محدود تعداد میں بازوں کی ری ایکسپورٹ کے لیے اجازت نامے جاری کرتی ہے تاکہ وہ شکار کے لیے لائے گئے بازوں کو واپس لے جاسکیں۔یہ اجازت نامہ شکار کے شیڈول سے قبل جاری کیا جاتا ہے اور شکاری کو اس کے آبائی ملک میں پہنچایا جاتا ہے۔اگر وزارت خارجہ میں قطری سفارت کار کے اجازت نامے پر ابھی کام ہورہا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ اس کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں بازوں کو پاکستان میں لانے میں کیسے کامیاب ہوگئے تھے اور اب وہ انھیں واپس لے جاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔