پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر آج کل اس خفیہ ’میمو‘ نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا ہے، جس کے مطابق صدر زرداری نے مبینہ طور پر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی برطرفی کے لیے امریکی انتظامیہ سے مدد طلب کی تھی۔
پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں یہ خط واشنگٹن میں ایک اعلیٰ پاکستانی سفارتی اہلکار نے اس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کو پہنچانے کے لیے کہا تھا۔
منصور اعجاز کے اس انکشاف کے بعد جہاں پاکستان کی فوجی اور سول قیادت میں تناؤ دیکھنے میں آیا، وہیں ذرائع ابلاغ میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ یہ اعلیٰ سفارتی اہلکار واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی ہیں۔ اس کے بعد بظاہر اس معاملے کا مرکزی کردار بن جانے والے حسین حقانی کو حکومت پاکستان نے وطن بلا لیا ہے، جہاں وہ اس خط کی بابت پاکستانی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کریں گے۔
درایں اثنا سابق ایڈمرل مائیک ملن کے ایک ترجمان نے اپنے تازہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ اُنھیں منصور اعجاز کی طرف سے صدر زرداری کا مبینہ پیغام موصول ہوا تھا۔ ’’ نہ تو پیغام کے مندرجات اور نہ ہی اس کا وجود ایڈمرل ملن کے جنرل کیانی اور پاکستانی حکومت کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہوئے۔ اُنھوں نے اس کو کبھی بھی مستند نہیں سمجھا اور نہ ہی اس پر کوئی توجہ دی۔‘‘
وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ قیادت کی سطح پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ ابھی اس حوالے سے کارروائی ہو رہی ہے۔ اس میں مختلف نقطہ نظر اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مختلف شراکت داروں کو اس میں شامل کر کے حقائق جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اگر اس میں کوئی خامی پائی گئی اور اگر کسی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے، تو قیادت اس کا فیصلہ کرے گی اور آپ دیکھیں گے کہ قومی مفاد سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہمیں ایک فرد کے بجائے اپنے قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔
اس سے قبل حسین حقانی بطور سفیر مستعفی ہونے کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں جس خفیہ خط کا ذکر ہو رہا ہے، وہ نہ تو انہوں نے تیار کیا اور نہ ہی انہوں نے اسے آگے پہنچایا۔
خیال رہے کہ اپریل 2008ء میں واشنگٹن میں پاکستانی سفیر تعینات ہونے کے بعد سے حسین حقانی کے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو زیادہ بہتر نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی وجہ دائیں بازو کی جماعتوں اور عسکری حلقوں میں حسین حقانی کا امریکہ نواز شخصیت کے طور پر دیکھا جانا ہے اور یہاں تک کہ انہیں واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں امریکہ کا سفیر بھی کہا گیا۔ اس سے قبل حسین حقانی ‘پاکستان بِٹوین ملا اینڈ ملٹری’ نامی کتاب بھی لکھ چکے ہیں جس کو پاکستان کے عسکری حلقوں میں پسند نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل بھی وکی لیکس کی طرف سے جاری کی گئی خفیہ سفارتی کیبلز میں بھی اس بات کا انکشاف ہو چکا ہے کہ پاکستانی سیاستدان اپنے مختلف مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے اسلام آباد میں امریکی سفیر سے ملاقاتیں کر کے مدد طلب کرتے رہے ہیں۔