نیٹو سپلائی لائن وقتی نہیں مستقل طور پر بند کر دی گئی ہے: وزیر داخلہ

فوجیوں کی ہلاکت کا جواب دینے کے لئے مختلف طریقوں پر غور

نشر في:

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کہ اسلام آباد نے پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی وقتی نہیں بلکہ مستقل طور پر بند کر دی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں رحمان ملک سے منسوب بیانات کے مطابق "آج کے بعد پاکستان کے راستے نیٹو کو لاجسٹک امداد کی فراہمی نہیں ہو گی۔"

ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی افغان سرحد پر چوکیاں انتہائی واضح ہیں۔ ہم نے ان کی پوزیشنز کے بارے میں کئی بار نیٹو کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی چوکیوں کو سات مرتبہ نیٹو نشانہ بنا چکی ہے۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 72 فوجی شہید جبکہ 250 زخمی ہوئے۔ اس تناظر میں پاکستان، نیٹو کی کوئی معذرت قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت ان حملوں کا جواب دینے کے لئے حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔
درایں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا بیان میں پاکستانی فوجی چوکی پر نیٹو کے ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے کیونکہ بہ قول مسٹر احسان صرف بیان اس مسئلے کا حل نہیں اور ایسے بیانات سے نیٹو کو پاکستانی فوج پر حملوں کا مزید حوصلہ ملتا ہے۔

حکومت صورتحال کا جائزہ لینے کی خاطر ایک ہنگامی اجلاس منگل کے روز لاہور میں منعقد کر رہی ہے جس میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے طریقوں پر غور کیا جائے گا. ڈی سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستانی حکومت امریکا کے ساتھ تمام معاہدوں کا از سر نو جائزہ لے۔

دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے بتایا ہے کہ اسلام آباد نے ابھی تک جرمنی کے شہر بون میں پندرہ دسمبر سے افغانستان سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں شرکت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔