بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 05 محرم 1433هـ - 30 نومبر 2011م KSA 20:40 - GMT 17:40

بھاری ہتھیاروں سے جھڑپ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

نیٹو اور پاک فوج کے درمیان افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ

بدھ 05 محرم 1433هـ - 30 نومبر 2011م
اسلام آباد/کابل ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد پر معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی فوج اور پاک فوج کے جوانوں کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے لیکن اس جھڑپ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

افغانستان میں امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل کارسٹین جیکبسن نے سرحدی علاقے میں دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپ کی تصدیق کی ہے لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

جنرل جیکبسن کا کہنا تھا کہ''تنازعے کے حل کے لیے تعاون اور رابطے کے معمول کے چینل کھل گئے ہیں۔ہم واقعے کی کوئی زیادہ تفصیل حاصل نہیں کر سکے لیکن یہ پتا چلا ہے کہ بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کے تبادلے کے باوجود کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا''۔ نیٹو فوج کے ترجمان کے اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں اور نہ پاکستانی حکومت یا فوج کی جانب سے واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں تعینات نیٹو فوجیوں نے پاکستانی علاقے کی جانب فائرنگ کی تھی جس کے جواب میں پاکستانی جوانوں نے بھی فائرنگ کی اور پھر ان کے درمیان بھاری توپخانے سے گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوگیا لیکن جھڑپ میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

سرحدی علاقے میں یہ تازہ جھڑپ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستانیوں میں پانچ روز پہلے نیٹو فوج کے فضائی حملے میں چوبیس فوجیوں کی شہادت پر شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے اور پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں امریکا کے خلاف احتجاجی جلسے،جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان نے افغانستان میں موجود نیٹو فوج کے لیے سپلائی بند کر دی ہے اور سامان رسد لے کر جانے والے ٹرکوں اور کنٹینروں کو اپنے سرحدی علاقوں میں روک رکھا ہے۔

پاکستان نے افغان سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ایک فوجی چوکی پر نیٹو فوج کے فضائی حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر آیندہ سوموار کو جرمن شہر بون میں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونےوالی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس پر امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''بون کانفرنس کی بہت پہلے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور پاکستان کی جانب سے اس میں عدم شرکت کا فیصلہ افسوسناک ہے۔ امریکا کی طرح پاکستان کا بھی ایک محفوظ، مستحکم اور جمہوری افغانستان کے ساتھ مفاد وابستہ ہے اور بون میں ہمارے اجتماع میں اسی مقصد کو آگے بڑھایا جائے گا''۔

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور انھیں دوبارہ بون کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔جرمن چانسلر نے نیٹو حملے اور اس کے نتیجہ میں فوجیوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا۔وزیر اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ہم بون کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکتے۔ اس میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔جرمن چانسلر نے پاکستانی وزیراعظم سے وزیر خارجہ یا جرمنی میں متعین پاکستانی سفیر کو کانفرنس میں بھیجنے کی درخواست کی جسے انھوں نے قبول نہیں کیا۔

درایں اثناء پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بدھ کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں 25 اور 26 نومبر کی درمیانی شب دو پاکستانی چیک پوسٹوں پر نیٹو فوج کے حملے کے بعد کی فوٹیج جاری کر دی ہے۔ ان میں سے ایک سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں کی بلااشتعال فائرنگ سے دو افسروں سمیت چوبیس سکیورٹی اہلکار شہید اور تیرہ زخمی ہو گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں ان چیک پوسٹوں کو دکھایا گیا ہے جہاں نیٹو کے حملے کے بعد تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ حملہ کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے مزید تباہی ہوئی تھی۔ سلالہ چیک پوسٹ کا علاقہ مہمند ایجنسی میں بلند و بالا، دشوار گذار پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے جہاں پہنچنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کو کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

نیٹو کے اس حملے پر پاکستان کی حکومت، سیاسی اور مذہبی جماعتوں، صحافتی حلقوں اور وکلاء برادری کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور حکومت اور فوج سے امریکا کے ساتھ افغاستان میں جنگی تعاون ختم کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ امریکی اور نیٹو حکام نے حملے کو غیر ارادی قرار دے کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی الگ الگ تحقیقات کی جارہی ہے لیکن بعض تجزیہ کار پاکستانی فوجیوں پر حملے کو سوچے سمجھے منصوبے بلکہ سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ابھی تک امریکا نے باضابطہ طور پر اس حملے پر پاکستان سے معذرت نہیں کی ہے۔