بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 19 محرم 1433هـ - 14 دسمبر 2011م KSA 00:37 - GMT 21:37

"تعاون کی شرائط کو قومی مفادات سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں"

خارجہ پالیسی کے ازسر نو تعین کا مطلب امریکا سے تعلقات کا خاتمہ نہیں: حنا

بدھ 19 محرم 1433هـ - 14 دسمبر 2011م
حنا ربانی کھر
حنا ربانی کھر
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کے خد وخال کے از سر نو تعین کا مقصد’’جارحانہ‘‘ حکمت عملی اختیار کرنا یا امریکا سے تعلقات ختم کرنا نہیں بلکہ اُنھیں پاکستان کے قومی مفادات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

’’ہم نے اس وقت کسی سے تعلقات توڑنے کی بات نہیں کی، صرف اتنا کہا ہے کہ ہم نے اپنے قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے تعاون کی شرائط کا از سر نو جائزہ لینا ہے (اور) یہ ہمارا بنیادی حق ہے۔‘‘

وفاقی دارلحکومت میں پارلیمنٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے مزید کہا کہ عالمی تناظر میں ’’بنیادی مقاصد‘‘ کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حسب حال ہونا ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے سخت رد عمل میں پاکستان نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اُن میں نیٹو اور امریکا کے ساتھ تعلقات سمیت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی موجودہ شرائط پر نظرِ ثانی بھی شامل ہے۔

اس سلسلے میں امریکا، برطانیہ، افغانستان، بھارت اور چین سمیت ایک درجن سے زائد اہم ملکوں میں پاکستان کے سفراء کا ایک خصوصی اجلاس بھی اسلام آباد میں منعقد کیا گیا تاہم اس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

صحافیوں سے اپنی گفتگو میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ اجلاس کا مقصد اس میں مدعو کیے گئے سفارت کاروں کی تجاویز کی بنیاد پر پاکستان کی وزارت خارجہ کا ایک متفقہ نقطہ نظر مرتب کرنا ہے۔

’’ہم نے علاقائی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے، پاکستان کے بنیادی مقاصد اور قومی مفادات کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے، اور پھر جو (تعلقات پر) نظر ثانی ہونی ہے اس کو دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کس طرح اور کس حد تک ہونی چاہیئے۔‘