پاکستانی صدر آصف علی زرداری دبئی میں اپنے علاج کے بعد پیر رات گئے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کے وطن پہنچے کے ساتھ ہی میمو گیٹ اسکینڈل کے حوالے سے ان افواہوں کا بھی خاتمہ ہو گیا، جو کافی دنوں سے میڈیا میں گردش کر رہی تھیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق صدر زرداری اپنی بیٹی اور ذاتی عملے کے ہمراہ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے کراچی پہنچے۔ پاکستانی صوبہ سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان نے خبر رساں ادارے "اے ایف پی" سے بات چیت میں زرداری کے وطن واپس پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر کا جہاز کراچی میں فضائیہ کے اڈے پر اترا۔
چھپن سالہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری چھے دسمبر کو اچانک دبئی روانہ ہو گئے تھے۔ صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ دل کے ایک کم شدت کے دورے کی وجہ سے دبئی کے ایک ہسپتال میں منتقل ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستانی میڈیا پر ایسی رپورٹیں سامنا آنا شروع ہو گئی تھیں کہ صدر زرداری شاید خراب صحت کے تناظر میں مستعفی ہو جائیں یا پھر وطن واپس نہ لوٹیں۔
مسٹر زرداری کی ملک سے روانگی ایک ایسے موقعے پر ہوئی تھی، جب پاکستانی سپریم کورٹ رواں برس مئی کے آغاز میں امریکی کمانڈوز کے ایک خصوصی آپریشن کے بعد امریکی میں پاکستانی سفیر کی جانب سے مبینہ طور پر امریکی فوج کے سربراہ کو لکھے گئے ایک مراسلے کے معاملے کی چھان بین میں مصروف ہے۔ اس مراسلے میں امریکی فوجی سربراہ کو پاکستان میں ممکنہ طور پر کسی فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے امداد طلب کی گئی تھی۔
پاکستانی سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ اس مراسلے کے درپردہ کون تھا۔
یہ معاملہ اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب امریکی میں ایک معروف کاروباری شخصیت منصور اعجاز نے فائنشل ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد پاکستانی صدر زرداری کو خدشہ تھا کہ فوج اقتدار پر قابض ہو سکتی ہے۔
منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے کچھ روز بعد امریکہ میں متعین اُس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی نے انہیں ایک مراسلہ امریکی فوج کے سربراہ مائیک مولن تک پہنچانے کی درخواست کی تھی، جس پر انہوں نے عمل درآمد کیا۔
واضح رہے کہ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی قیادت نے حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا تھا۔ سابق پاکستانی سفیر حقانی ایسے کسی بھی معاملے میں اپنے ملوث ہونے کو مسترد کرتے آئے ہیں۔