پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا استعفیٰ مسترد کردیا ہے اور انھیں بطور وزیرکام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
گورنر ہاوٴس کراچی میں اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بطور وزیر کام جاری نہی رکھ سکتی ہیں لیکن وزیر اعظم گیلانی نے ان کا استعفیٰ پھاڑ دیا اور اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
کابینہ اجلاس کے دوران ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ ان کی اجازت سے استعفیٰ دے رہی ہیں۔وہ استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور رو دیں۔ان سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے دو وزیراطلاعات شیری رحمان اور قمرزمان کائرہ بھی نامعلوم حالات میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے اور ان کے استعفے منظور کرلیے گئے تھے۔
وزیر اعظم ہاوٴس کے ترجمان کے مطابق کابینہ اجلاس کے بعدڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے انھیں ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے۔اس ملاقات کے بعد وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ ان کا جینا، مرنا پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے، وہ کہیں اور نہیں جارہی ہیں۔ اگر چار،چار وزیراطلاعات ہوں گے تو وہ کارکردگی نہیں دکھا سکتیں۔
کراچی میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر ان کی وزارت میں دخل اندازی کی جائے گی تو وہ ایسی جگہ نہیں رہ سکتیں، نہ ہی کوئی پرفارمنس دے سکتی ہیں۔ اِسی لیے انھوں نے اپنے تمام تحفظات کابینہ اور وزیراعظم کے سامنے رکھے تھے، جس کے بعد یقین ہے کہ وزیراعظم ان کے تحفظات دور کردیں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ بیوروکریسی سے ڈِکٹیشن نہیں لیتی ہیں بلکہ ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ڈِکٹیشن سے الٹ چلتی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ''میں بیساکھیوں کے سہارے وزارت نہیں چلا سکتی ، جب ایک وقت میں چار، چار وزیر اطلاعات ہوں گے تو وہ کیسے کام کر سکتی ہیں، اگر ان کی وزارت کی ٹیم کوئی اور منتخب کرے گا تو وہ پرفارمنس نہیں دے سکتی ہیں۔۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے سرکاری چینل پاکستان ٹیلی ویژن کے مینجنگ ڈائریکٹر یوسف بیگ مرزا سے ادارے میں بھرتیوں اور دوسرے امور پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور وہ مبینہ طور پر ان کی کوئی بات نہیں مانتے۔اس کا اظہار انھوں نے پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی گذشتہ دنوں کیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں پی ٹی وی اور وزارت اطلاعات کی بیوروکریسی کا کوئی تعاون حاصل نہیں ہے،اس لیے وہ ایوان میں ارکان اسمبلی کے اپنی وزارت سے متعلق سوالوں کے جواب نہیں دے سکتی ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پاکستان کی طاقتور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے درمیان میمو اسکینڈل کے معاملے پر حالیہ محاذآرائی کے دوران حکومت کا بھرپور دفاع کرنے میں ناکام رہی ہیں اور انھیں خود حکمراں جماعت کے اندرونی حلقوں کی جانب سے بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔بعض وزراء ان کی وزارت میں مداخلت کررہے ہیں جبکہ سرکاری ٹی وی کو مکمل طور پر پی پی پی اور اس کی حکومت کا ''ترجمان'' بنا دیا گیا ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ انھوں نے خود رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا یا انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا لیکن حقیقت حال جو بھی ہو،اس سے حکمراں جماعت میں پائے جانے والے اختلافات کی نشاندہی ہوتی ہے۔پی پی پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے بعض وزراء ایک دوسرے کو میڈیا میں آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اوران کی نااہلی اور کرپشن کی کہانیاں میڈیا میں گردش کررہی ہیں۔