امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے اگر وہ وزیر اعظم ہاٶس (اسلام آباد) سے باہر نکلے تو انھیں بھی گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح قتل کر دیا جائےگا۔
انھوں نے یہ بات برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے.انہوں نے کہا کہ انھیں غدار سمجھا جا رہا ہے ،ملک کے طاقتور حلقے انھیں واشنگٹن نواز قرار دے رہے ہیں ،جبکہ قانون کے مطابق ابھی تک ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے۔انہیں صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی حمایت حاصل ہے ،وہ وزیرا عظم ہاٶس میں ان کے مہمان ہیں اوران کی وزیراعظم سے طویل سیاسی وابستگی ہے۔
حسین حقانی نے کہا کہ ''میرے ایک اچھے دوست سلمان تاثیر کوان کے سکیورٹی محافظ نے قتل کردیا تھا کیونکہ اس نے میڈیا کے ذریعے یہ سنا تھا کہ گورنر گستاخ رسول ہیں۔مجھے بھی میڈیا میں غدار اور امریکی آلہ کار قراردیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ طاقتور حلقوں کی حوصلہ افزائی سے ہورہا ہے''۔
دانشور سفارت کار نے کہا کہ ''ان کے پاس سکیورٹی خدشات کے پیش نظر وزیراعظم ہاٶس میں رہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں رہا،یہ ایک محفوظ ترین جگہ ہے''.انھوں نے اخبار کو بتایا کہ وہ انتہائی سخت سیکیورٹی میں صرف تین مرتبہ ہی وزیراعظم ہاٶس سے باہر نکلے ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو وہ سخت سیکیورٹی میں تحقیقاتی عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ''حکومت کہیں نہیں جارہی ہے،ان کے خلاف عاید کردہ بے بنیاد الزامات حکومت کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں اور یہ بعض طاقتور حلقوں کی جانب سے لگائے جارہے ہیں''۔ ایک پاکستانی نژاد امریکی تاجر اور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے مبینہ ایجنٹ منصوراعجاز نے 10اکتوبر کو ایک امریکی اخبار میں شائع شدہ اپنے مضمون میں الزام عاید کیا تھا کہ حسین حقانی نے مئی میں ان سے ایک میمو پینٹاگان تک پہنچانے کی درخواست کی تھی۔اس میمو میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت کو فوج سے خطرہ ہے اورامریکا اس کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے لیکن حسین حقانی نے اپنے انٹرویو میں ایسا کوئی میمو لکھنے کی تردید کی ہے۔
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے گذشتہ جمعہ کو میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے دائر درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلی تھیں اور اس کی مکمل چھان بین کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا ہے۔اس کمیشن نے سوموار کو حسین حقانی کو بھی اپنا موقف ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے تھے جبکہ ان کی وکیل عاصمہ جہانگیر ان کی پیروی کرنے سے انکار کرچکی ہیں۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیشن چار ہفتوں میں اپنا کام مکمل کرے گا اور وکلاء اور فرانزک ماہرین کی خدمات حاصل کرسکے گا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق صوبائی چیف سیکریٹریز، برطانیہ اور کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشنرز کو عدالتی کمیشن سے معاونت کا پابند بنایا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق کمیشن کو بیرون ملک سے بھی تحقیقات کرانے کا اختیارہو گا۔پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز اور امریکا میں متعین سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے درمیان بلیک بیری سے نواسی ای میلز اور میسیجز ہوئے، عدالتی کمیشن بلیک بیری کمپنی سے میسیجز کی تصدیق کرائے گا، جب کہ حسین حقانی عدالتی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔