بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 17 صفر 1433هـ - 11 جنوری 2012م KSA 10:37 - GMT 07:37

نیٹو حملے کے بعد پہلا ڈرون حملہ

شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملہ، چار افراد ہلاک

بدھ 17 صفر 1433هـ - 11 جنوری 2012م
العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر سلالہ کے مقام پر واقع پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر نیٹو حملوں کے بعد افغانستان کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں پہلا ڈرون حملہ ہوا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حملے میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے "اے پی" نے پاکستانی انٹلیجنس اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے چار شدت پسندوں میں سے تین عرب تھے۔ یہ حملہ منگل کو شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ کے قریب ہوا، جسے دہشت گرد گروہ القاعدہ اور طالبان کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔ ان انٹلیجنس اہلکاروں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات دی ہیں۔

"اے پی" کے مطابق ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ حملہ غالباﹰ سی آئی اے کے ڈرون نے کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ نے ایسے حملوں سے احتراز کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا، لیکن ان حملوں میں وقفہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھا۔ ان امریکی اہلکاروں نے بھی ڈرون حملوں کی کلاسیفائیڈ نوعیت کی وجہ سے یہ باتیں اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیں۔

نیٹو کی جانب سے گزشتہ نومبر کے حملوں کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے۔ دراصل گزشتہ برس مئی میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کے دوران پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کر دیا تھا، جس کے وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلے سے ہی تلخی چلی آ رہی تھی۔ چھبیس نومبر کے حملوں کے بعد پاکستان نے نیٹو کا سپلائی رُوٹ بھی بند کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ برس مجموعی طور پر ساٹھ ڈرون حملے ہوئے، جو 2010ء کے مقابلے میں قدرے کم تھے۔ ان حملوں میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے، جن میں درمیانے اور اعلیٰ درجے کے کمانڈر بھی شامل تھے۔ پاکستان اور بیرون ملک انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں شہری ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں۔ امریکا ان الزامات کی کھلے عام تفتیش نہیں کرتا، تاہم واشنگٹن حکام اہداف کو درست قرار دیتے ہیں۔