ایرانی دھمکیوں کے جواب میں تمام آپشنز کھلے ہیں:شہزادہ ترکی الفیصل
ایرانی دھمکیوں سے ''غیرمطلوب'' محاذآرائی شروع ہوجائے گی
سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایرانی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام دستیاب آپشنز کو استعمال کرے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایرانی دھمکیوں سے غیرمطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوجائے گی۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے یہ بات بحرین میں ایک سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''اپنے مفادات یا سکیورٹی کے لیے کسی خطرے کی صورت میں ہم اپنی قومی اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے''۔
العربیہ ٹی وی چینل کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ''محاذ آرائی میں اضافے اور کشیدگی کا نتیجہ فوجی مہم جوئی کی صورت میں نکل سکتا ہے اور اس کے ناقابل پیشین گوئی مضمرات ہوں گے یا اس سے غیر مطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوسکتی ہے''۔
انھوں نے یہ بات ایران کی عرب ممالک کو حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں کہی ہے۔ایران نے سعودی عرب کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس کے تیل کی برآمدات پر پابندیوں کی صورت میں عالمی مارکیٹ میں رسد کو پورا کرنے کے لیے اپنی پیداوار میں اضافہ نہ کریں۔
ایران نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے اس کے خام تیل کی برآمدات پر پابندیاں عاید کیں تو وہ خلیج فارس کے دھانے پر واقع اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردے گا اورخلیجی عرب ممالک سے مغربی ممالک کی جانب جانے والے تیل بردار بحری جہازوں کو بھی روک دیا جائے گا۔
شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ''ایران کو اس تنازعے کو ہوا نہیں دینی چاہیے اور ہمیں ہمارے بین الاقوامی فیصلوں کے حوالے سے دھمکیاں نہیں دینی چاہئیں''۔ انھوں نے کہا کہ ''ایران کو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور دنیا کو توانائی کی سپلائی کو غیر جانبدار رہنے دینا چاہیے''۔
برطانیہ اور امریکا میں سابق سعودی سفیر نے کہا کہ''ایران خطے میں سکیورٹی کے مقاصد کے حصول کے لیے ہمارا شراکت دار ہے لیکن اس نے ایک مختلف پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس سے علاقائی سکیورٹی کے لیے مستقل طور پر خطرات پیدا ہورہے ہیں اور وہ غیرملکی مداخلت کا بھی راستہ ہموار کررہا ہے حالانکہ وہ یہ دعویٰ بھی کررہا ہے کہ وہ غیرملکی مداخلت کو روکنے کی کوشش کررہا ہے''۔