بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 25 صفر 1433هـ - 19 جنوری 2012م KSA 12:11 - GMT 09:11

گرفتاری کے خدشات کے پیش نظر

مشرف کا پاکستان واپسی کا فیصلہ غیر معینہ مدت کے لئے مؤخر

جمعرات 25 صفر 1433هـ - 19 جنوری 2012م
اسلام آباد ۔ العربیہ

پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے قانونی مشیر بیرسٹر سیف علی نے "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نے اس مہینے کے اواخر میں اپنی پاکستان واپسی کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے، تاہم بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ سابق صدر مشرف وطن واپس ضرور لوٹیں گے لیکن انہوں نے اس کے لئے کوئی تاریخ بتانے سے گریز کیا۔

پرویز مشرف کی وطن واپسی کا فیصلہ گزشتہ روز سینٹ میں وزیر داخلہ رحمن ملک کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں انہوں نے صدر مشرف کو عدالتی مفرور قرار دیا تھا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ صدر مشرف تین مقدمات میں عدالت کو مطلوب ہیں اور عدالت نے انہیں اشتہاری مجرم قرار دے چکی ہے، اس لئے وطن واپسی پر انہیں فورا گرفتار کرلیا جائے گا۔

سینٹ کی قومی سلامتی کے چیئرمین رضا ربانی نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سابق صدر کی ملک واپسی پر انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے تاکہ دستور کو تاراج کرنے کے الزام میں ان پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جا سکے۔ رضا ربانی نے الزام عائد کیا تھا کہ اپنے دور حکومت میں صدر پرویز مشرف نے دو مرتبہ ملک کا دستور معطل کیا۔ انہوں نے بغیر کسی تحریری معاہدے کے ملک کی اہم ہوائی اڈے امریکا کو دیئے، جس کی وجہ سے پاکستان کی قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے سینٹر رضا ربانی نے پرویز مشرف پر پیپلزپارٹی کی رہ نما بے نظیر بھٹو اور برزگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کا الزام بھی عائد کیا۔

یاد رہے کہ مقتول بلوچ رہ نما نے پوتے طلال بگٹی نے تین روز پہلے اپنے اس اعلان کا اعادہ کیا تھا کہ جو شخص صدر پرویز مشرف کو قتل کرے گا اسے ایک ارب روپے مالیت کا انعام دیا جائے گا۔

صدر پرویز مشرف نے کراچی میں ایک جلسہ عام سے اپنے ویڈیو خطاب میں جنوری کے آخری ہفتے میں پاکستان واپسی کا اعلان کیا تھا تاہم ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ وطن واپسی کے بارے میں اعلان کے بعد خود مشرف کی اپنی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی صفوں میں انتشار پیدا ہوا گیا تھا، جس کے باعث ان کے میڈیا کوارڈینٹر اور دیرینہ ہمدم فواد چودھری نے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔