بھارت: ہائی اسکول استاد کے بنک کھاتے میں 10 ارب ڈالرز کی رقم جمع
اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہے: بنک مینجر
بھارت میں سات سو ڈالرز کے لگ بھگ ماہانہ تنخواہ پانے والا ہائی اسکول کا ایک استاد اپنے بنک کھاتے میں اچانک قریباً دس ارب ڈالرز کے برابر بھارتی رقم پا کر ہکا بکا رہ گیا ہے لیکن یہ استاد اتنی زیادہ رقم اچانک مل جانے پر زیادہ دیر تک خوشیاں نہیں منا سکا ہے کیونکہ یہ بھاری رقم غلطی سے اس کے اکاؤنٹ میں چلی گئی تھی۔
بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے قصبے بلورگھٹ سے تعلق رکھنے والے استاد پریجات سہا نے بتایا کہ ''انھوں نے گذشتہ اتوار کو جب بنک دولت بھارت (اسٹیٹ بنک آف انڈیا) میں اپنا کھاتے کو دس ہزار روپے (دو ہزار ڈالرز) منافع کی وصولی کی تصدیق کے لیے آن لائن چیک کیا تو انھوں نے اپنے کھاتے میں بھاری رقم جمع شدہ ملاحظہ کی''۔
ان کے بہ قول ان کے بنک اکاؤنٹ میں چار سو چھیانوے ارب بھارتی روپے جمع تھے۔ کاغذوں کی حد تک راتوں رات ارب پتی بننے کی خوشی کے ''صدمے'' سے بحال ہونے کے بعد بیالیس سالہ سہا نے فوری طور پر بنک میں اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا اور ان سے حساب کی اس بڑی غلطی کی بابت بات کی اور اس کو درست کرنے کے لیے کہا۔
بھارت کے مرکزی بنک نےاس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اتنی بڑی رقم اسکول ٹیچر سہا کے کھاتے میں کیسے منتقل ہوئی ہے لیکن بنک کاری کی تاریخ کا ایک ایک انوکھا واقعہ ہے کہ معمولی تنخواہ پانے والے استاد کو بھارت کے مرکزی بنک نے اپنے ریکارڈ میں ارب پتی بنا دیا ہے۔
اسٹیٹ بنک کی مقامی برانچ کے مینجر سبھاشیش کرماکر کا کہنا ہے کہ ''ہم اس غلطی کی نشاندہی کی کوشش کررہے ہیں اور ہم نے صوبائی دارالحکومت کولکتہ میں واقع اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹرز اور ممبئی میں واقع مرکزی ہیڈکوارٹرز کو اس غلطی کے بارے میں مطلع کر دیا ہے''۔