بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 29 صفر 1433هـ - 23 جنوری 2012م KSA 15:06 - GMT 12:06

میمو اسکینڈل کے مرکزی کردار

منصور اعجاز کا ناکافی سیکیورٹی کی بنا پر پاکستان بیان ریکارڈ کرانے سے انکار

پیر 29 صفر 1433هـ - 23 جنوری 2012م
پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز
پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

پاکستان کے میمو گیٹ اسکینڈل کے اہم کردار منصور اعجاز نے پاکستان آکر عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں ان کے وکیل اکرم شیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت ان کے مؤکل کوگرفتار کرنے کا منصوبہ تیار کیے ہوئے ہے۔

منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے پیر کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعجاز کے ساتھ ہونے والی ٹیلی کانفرنس میں اُن کی سکیورٹی سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے منصور اعجاز کی سکیورٹی سے متعلق رواں ماہ نو جنوری اور سولہ جنوری کو جو احکامات جاری کیے تھے اُن میں کی گئیں بنیادی تبدیلیوں کے سلسلے میں تبادلہ خال کیا گیا۔

اکرم شیخ نے کہا کہ اُن کے موکل کی سکیورٹی پر مامور اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی سکیورٹی ڈاکٹر مجیب الرحمنٰ نے اتوار کے روز ملاقات کی، اُس میں یہ معاملہ اُٹھایاگیا کہ کیا وفاقی حکومت اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ منصور اعجاز کے کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بعد اُس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نہیں ڈالا جائے گا جس پر پولیس افسر نے ایسی کوئی بھی ضمانت دینے سے معذرت کر لی۔

منصور اعجاز کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے ایسی منصوبہ بندی کی ہے کہ جونہی اُن کے موکل کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بعد باہر نکلیں تو اُنہیں کسی مقدمے میں پھنسا دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے ملک نہ جا سکیں۔

اُنہوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ منصور اعجاز کے پاکستان آنے کے بعد اُن کی حفاظت ایک تھانے کا ایس ایچ او کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ کہ اُن کے موکل کو خدشتہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے اُنہیں سکیورٹی فراہم کی تو ہوسکتا ہے کہ اُن کے پاس جو الیکٹرانک شواہد موجود ہیں وہ ضائع کردیے جائیں تو اُس میں ردوبدل کردیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ’بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سربراہی میں بارہ جنوری کو کور کمانڈر کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ منصور اعجاز کے پاکستان آنے پر فوج اُنہیں سکیورٹی فراہم کرے گی لیکن اُنہوں نے بھی ایسا نہیں کیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی یقین دہانی کروائی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ضمن میں آرمی چیف کو خط بھی لکھا گیا ہے لیکن ابھی تک اُنہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایک سوال پر کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے منصور اعجاز کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کے بارے میں کہا ہے، اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ وہ رحمان ملک کی بجائے اس متنازع میمو کے اہم کردار حسین حقانی پر زیادہ اعتبار کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

اس متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والی قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے متعلق اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ کمیٹی کسی بھی غیر ملکی کو طلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی البتہ اس پارلیمانی کمیٹی چاہے تو منصور اعجاز کا بیان لندن یا زیورخ میں ریکارڈ کر سکتی ہے اور یا پھر کمیشن کو دیے گئے بیان کو بھی استعمال کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے چھبیس جنوری کو منصور اعجاز کو پیش ہونے کے بارے کہا ہے۔