اسرائیلی جیل میں بند فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کی عدالت میں پیشی
''صہیونی قبضہ ختم کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا''
اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی تنظیم فتح کے لیڈر مروان برغوثی کا کہنا ہے کہ اسرائیل 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں کو خالی کردے اور فلسطینی ریاست قائم ہوجائے تو اس صورت میں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے یہ بات مقبوضہ بیت المقدس میں میجسٹریٹس کی عدالت میں پیشی کے موقع پر کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے ساتھ تنازعہ بھی ختم ہوجائے گا۔ اگر 1967ء کی سرحدوں سے مکمل انخلاء ہوجاتا ہے اور فلسطینی ریاست قائم ہوجاتی ہے تو تنازعہ بھی ختم ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ مروان برغوثی اس وقت اسرائیلی جیلوں میں یہود مخالف حملوں کے الزامات میں سنائی گئی پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔انھیں فلسطینی قیادت کے خلاف امریکا کی ایک سول قانونی درخواست کے ضمن میں بیان کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے سنئیر لیڈر مروان برغوثی جونہی عدالت میں داخل ہوئے تو انھوں نے فتح کا نشان بنایا۔اس موقع پر انھوں نے عربی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں عظیم فلسطینی عوام پر زور دوں گا کہ وہ اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کریں، قومی اتحاد کی حکومت قائم کریں اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے پُرامن انداز میں مزاحمت کریں۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بغیرخطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے تیونس ،لیبیا اور مصر میں برپا ہونے والے عوامی انقلابات میں کردار ادا کرنے والے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ انھیں سلیوٹ پیش کرتے ہیں۔
مروان برغوثی کے عدالت میں داخل ہونے سے قبل ان کے وکیل الیاس سباغ نے کہا کہ ''ان کے موکل کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہم فلسطینی اتھارٹی کے خلاف امریکی قانونی درخواست کی بات کر رہے ہیں، مروان برغوثی کے خلاف نہیں۔ وہ اس کے فریق نہیں ہیں ،اسی لیے وہ اس کیس یا کسی اور کیس کے بارے میں کچھ نہیں کہنے والے''۔
وکیل الیاس نے فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کو بتایا کہ ''کیس تنظیم آزادی فلسطین "پی ایل او" اور فلسطینی اتھارٹی کے خلاف ہے''۔ اسرائیلی اہلکار برغوثی کو ایک گواہ کے طور پر لائے تھے کیونکہ وہ فلسطینی اتھارٹی میں شامل تھے لیکن انھوں نے اس ایشو سے متعلق عدالت میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ مروان برغوثی ایک با اثر لیڈر رہے ہیں اور انھیں فلسطینی عوام میں بے پایاں مقبولیت حاصل ہے،انھوں نے نوے کے عشرے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طے پائے اوسلو معاہدے کی حمایت کی تھی لیکن اسرائیل نے انھیں صہیونی قبضے کے خلاف سن 2000ء میں شروع ہوئی دوسری انتفاضہ تحریک کا روح رواں قرار دیا تھا اور ان پر یہودیوں کی ہلاکتوں کے الزامات میں مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ وہ اس وقت صہیونیوں کے قتل کے الزام میں پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔