نیویارک کے پولیس سربراہ کی متنازعہ فلم میں انٹرویو پر مسلمانوں سے معذرت
جہاد سے متعلق شرانگیز دستاویزی فلم پر مسلمانوں میں اشتعال
امریکا کے شہر نیویارک کے پولیس سربراہ ریمنڈ کیلی نے دہشت گردی سے متعلق ایک فلم میں نمودار ہونے پر مسلمانوں سے معذرت کرلی ہے جبکہ امریکی مسلمانوں کی تنظیموں نے اس فلم کو شرانگیز اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کے ترجمان نے اس سے پہلے اس بات سے انکار کیا تھا کہ انھوں نے ''تیسرا جہاد'' نامی فلم کی تیاری میں کسی قسم کا کوئی کردار ادا کیا ہے۔ترجمان کا موقف تھا کہ کیلی کی فوٹیج کسی اور ذریعے سے لی گئی تھی۔
لیکن بدھ کو کیلی نے ایک تحریری بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے 2007ء میں اس فلم کے لیے انٹرویو دیا تھا کیونکہ فلم ساز ٹیلی ویژن اور وائٹ ہاٶس کے لیے ایک جانا پہچانا نام تھا۔یہ فلم بعد میں نیویارک کے محکمہ پولیس کے انسداد دہشت گردی سے متعلق سیشنز میں بار بار دکھائی گئی تھی۔
انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''یہ فلم محکمہ پولیس کے تربیتی نصاب میں شامل نہیں تھی اور نہ اس کو کسی تربیتی عمل کے دوران دکھانے کی اجازت دی گئی تھی.البتہ اس کو 2010ء میں ایک ایسے کمرے میں دکھایا گیا تھا جہاں پولیس افسر تربیتی وقفے کے دوران بیٹھے تھے لیکن ایک ٹرینی کی شکایت کے بعد اس فلم کو روک دیا گیا تھا''۔
نیویارک کے پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ'' پولیس کے دفاتر میں اس فلم کا دکھایا جانا مناسب نہیں تھا اوروہ محکمے کی پراپرٹی میں اس فلم کے غیر مجاز طور پر چلائے جانے پر بالخصوص مسلم کمیونٹی کے ارکان سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ وہ اس فلم کو اشتعال انگیز خیال کریں گے''۔
بعض مسلم گروپوں نے اس شرانگیز فلم کے پولیس کے تربیتی پروگراموں کے دوران چلائے جانے کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے محکمہ پولیس میں عدم شفافیت کا آئینہ دار قراردیا ہے۔نیویارک کے مئیرمائیکل بلومبرگ نے دو روز پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ پولیس نے اپنے تربیتی سیشنز کے دوران اس فلم کو دکھا کر ایک خوفناک غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔
''تیسرا جہاد'' نامی فلم نیو یارک میں قائم ایک قدامت پسند ادارے کلئیرین فنڈ نے تیار کی تھی۔اس میں بعض اعتدال پسند مسلمانوں پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ بظاہر نظرآنے کی نسبت اپنے عقیدے میں زیادہ کٹڑ ہیں۔اس فلم میں جہاد سے متعلق امریکیوں کے انتہا پسندانہ نقطہ نظر اور راسخ العقیدہ اسلام کے مزعومہ خطرے کو اجاگر کرنے کے لیے بم دھماکوں اور دہشت گردی کے حملوں کی فوٹیج استعمال کی گئی ہے۔اس فلم میں جن لوگوں کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں،وہ یہ خبردار کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ مغربی تہذیب حملے کی زد میں ہے۔
نیویارک یونیورسٹی میں قائم ایک تھنک ٹینک برینان مرکز برائے انصاف نے پولیس کی دستاویزات کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم سے کم پندرہ سو پولیس افسروں کو تربیتی عمل سے گزارا گیا تھا اور انھوں نے ممکنہ طور پر یہ فلم دیکھی ہوگی۔مسلمان کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان کا کہنا ہے کہ فلم نے پولیس افسروں کو یہی سکھایا ہوگا کہ وہ تمام مسلمانوں کو مشتبہ سمجھیں۔
نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی ''تیسرا جہاد'' میں تین مرتبہ کوئی تیس سیکنڈز کے لیے نمودار ہوتے ہیں۔وہ قیدیوں کے اسلام قبول کرنے ،سابق سوویت یونین اور جوہری ہتھیار استعمال کرنے والے دہشت گردوں کے خطرے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔اس دستاویزی فلم میں نیویارک کے سابق مئیر روڈلف جولیانی ،سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر آر جیمز وولسے اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سابق وزیر ٹام ریج کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔
نیویارک پولیس کے ترجمان پال براٶن نے گذشتہ سال صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں ریمنڈ کیلی کی فلم میں شامل فوٹیج کسی اور ذریعے سے حاصل کی گئی تھی اور انھوں نے اس فلم کے لیے انٹرویو نہیں دیا تھا لیکن کلیرین فنڈ کے ترجمان ایلکس ٹریمان نے ان کے اس موقف کی تردید کی ہے.ان کا کہنا ہے کہ کیلی نے کیمرے کے سامنے نوے منٹ تک گفتگو کی تھی اور وہ فلم کے موضوع کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ تھے۔ اگر وہ اٹھائے جانے والے سوالوں سے مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے اور ان سے ناخوش تھے تو پھر انھیں نوے منٹ تک گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کے بجائے پہلے ہی انٹرویو ختم کردینا چاہیے تھا۔ترجمان نے کلی اور بلومبرگ پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ مسلم کارکنان کے دباٶ کے آگے جھک گئے ہیں''۔