لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل پر"العربیہ" ٹی وی کی دستاویزی فلم

فلم میں حریری قتل کے عالمی و علاقائی سیاست پر اثرات کا ذکر

نشر في:

العربیہ ٹی وی نے لبنان کے سابق مقتول وزیر اعظم رفیق حریری کی سات سال قبل بیروت میں ایک قاتلانہ حملے میں ہلاکت سےمتعلق ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے۔

تین قسطوں پر مشتمل اس دستاویزی رپورٹ کا پہلا حصہ تین فروری بروز جمعہ سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے نشر ہو گا۔ دستاویزی فلم میں سابق لبنانی وزیر اعظم کے بیروت میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکت اور اس کے بعد اندرون ملک پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال، واقعے کے علاقائی سیاست اور عالمی پر اثرات اور قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی عالمی تحقیقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری تین فروری سنہ 2005ء کو بیروت کے قریب ایک جلسے سے خطاب کے لیے جاتے ہوئے سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے مارے گئے تھے۔

عالمی وعلاقائی پیچیدہ صورت حال

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فروری سنہ 2005ء کو رفیق حریری قافلے کے روٹ میں ایک ٹن سے زائد وزنی بارود سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا جس کے دھماکے سے سابق وزیر اعظم سمیت کم سے کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مہلوکین میں کئی راہ گیر بھی شامل تھے۔ واقعے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ نے سنہ 2007ء میں لبنان ہی میں ایک ٹریبونل قائم کیا۔

داخلی سطح پر رفیق حریری کے قتل نے ملکی سیاست پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔ اس واقعے نے رفیق حریری کی جماعت "فیوچر موومنٹ" اور لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔

"فیوچر موومنٹ" کی سربراہی مقتول لیڈر کے فرزند سعد حریری کر رہے تھے جبکہ حزب اللہ کے شیخ حسن نصراللہ۔ دونوں جماعتیں لبنانی پارلیمنٹ میں دو الگ الگ بلاکس میں بھی تقسیم ہو گئیں۔ سعد حریری کے حامی بلاک نے "گروپ مارچ 14" کے نام سے اپنا اتحاد قائم کیا جب کہ حزب اللہ اور اس کے حامیوں نے "مارچ 08" کے نام سے اپنا الگ اتحاد بنا لیا۔

سیاسی اختلافات کے اثرات صرف لبنان کے اندر تک محدود نہ رہے بلکہ لبنان کے سُنی مسلک کے پیروکاروں کے حامی سمجھے جانے والے مقتول وزیر اعظم کے قتل کے پیچھے حزب اللہ کی پشت پر کھڑے ایران اور شام کا بھی نام لیا جانے لگا۔ یوں رفیق حریری کے قتل نے عالمی اور علاقائی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ عالمی ٹریبونل نے اپنی طویل تحقیقات کے بعد گذشتہ برس فیصلہ جاری کرتے ہوئے قتل کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کی اور اس کے چار ارکان کو مطلوب قرار دے دیا۔

دستاویزی فلم میں رفیق حریری کے قتل اور اس کے بعد ہونے والی عالمی سطح پر تبدیلیوں کا بھی ذکر شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت اور عراق میں صدام حسین کے استبدادی نظام کے خاتمے کے بعد شام نے لبنان میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوشش کی تھی۔

شامی پالیسی کے تحت سنہ 2005ء کے موسم گرما میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں رفیق حریری اوران کی جماعت شکست دینا اور ان کی جگہ سابق صدر امیل لحود کو کامیاب کرنا تھا۔ شام کی لبنان میں مداخلت اور امیل لحود کو اقتدار میں لانے کی کوششوں کے خلاف سخت ترین عالمی ردعمل سامنے آیا، چنانچہ امریکا اور فرانس کی مشترکہ کوششوں سے سلامتی کونسل کو لبنان کے بارے میں قرارداد نمبر 1559 منظور کرنا پڑی۔ اس قرار داد میں لبنانی عوام اور تمام سیاسی دھڑوں پر زور دیا گیا کہ وہ بیرونی اشاروں پر چلنے کے بجائے آئین اور قانون کی عمل داری یقینی بنائیں اور مسلح گروپوں سے اسلحہ واپس لیا جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لبنان میں بعض خفیہ ہاتھ رفیق حریری کے قتل سے بہت پہلے اپنی کارروائیوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ ان کا اصل ہدف رفیق حریری ہی کو منظر سے ہٹانا تھا، چنانچہ سنہ 2004ء میں لبنان کے ایک وزیر اور رکن پارلیمنٹ مروان حمادہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے۔ لیکن مروان سے قبل کئی ایسی سرکردہ سیاسی شخصیات کو ٹھکانے لگایا جا چکا تھا۔ ان میں سوشلسٹ پارٹی کےسابق جنرل سیکرٹری جورج حاوی، دانشور سمیر قصیر، اخبار" النہار" کے ایڈیٹر جبران توینی، رکن پارلیمنٹ ولید عیدو، اور وزیربیار جمیل جیسے نام شامل ہیں جنہیں خفیہ ہاتھوں نے ٹھکانے لگا دیا تھا۔

تین اجزاء پرمشتمل دستاویزی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی جانب سے رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے جرمن جسٹس مسٹر ڈٹلیف میلز کی سربراہی میں قائم ٹریبونل اوراس کی جوڈیشل انکوائری کی پوری تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں عدالت کی جانب سے شامی انٹیلی جنس کے ملوث ہونے اور حزب اللہ کے چارعناصر جمیل السید، علی الحاج، ریمون عازار اور مصطفیٰ حمدان کے خلاف فیصلہ بھی شامل ہے جس میں انہیں رفیق حریری کے قتل میں براہ راست ملوث قرار دیا گیا ہے۔