سوزان مبارک کی یادداشتیں ایک کروڑ آسٹریلین پاؤنڈز میں فروخت

امریکا اور خلیجی ممالک نے پناہ کی پیش کش کی تھی

نشر في:

مصر کے سابق مرد آہن محمد حسنی مبارک کی اہلیہ سوزان مبارک نے اپنی یادداشتوں میں انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ برس فروری میں امریکا نے ان کےخاندان کو سیاسی پناہ کی پیشکش کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جب ان کے شوہر کے خلاف عوامی انقلاب برپا ہوا تو امریکا کے علاوہ خلیجی ریاستوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین نے بھی ان کے خاندان کو اپنے ہاں سیاسی پناہ لینے کی پیشکش کی تھی۔تاہم حسنی مبارک نے یہ تمام پیشکشیں ٹھکرا دی تھیں۔

خیال رہے کہ سوزان مبارک کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب جلد منظر عام پر آ رہی ہے۔ ان یادداشتوں میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس حسنی مبارک کے اقتدار کا تختہ الٹنے کے موقع پر ان کے عالمی اتحادیوں نے انہیں ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی تھی۔ اس وقت امریکی حکومت کا ایک ایلچی ایک خصوصی پیغام لے کرقاہرہ میں حسنی مبارک کے پاس آیا۔ وہ حسنی مبارک کے خاندان کے تمام افراد کے لیے ویزے بھی ساتھ لایا تھا۔

اس کے علاوہ امریکی ایلچی نے صدر براک اوباما کی جانب سے حسنی مبارک کو یہ تحریری ضمانت بھی دی تھی کہ اگر وہ امریکا میں سیاسی پناہ لینا چاہتے ہیں تو واشنگٹن انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گا۔ سوزان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر سیاسی پناہ کے لیے وصول ہونے والی پیشکشوں کا ریکارڈ گذشتہ برس 11 فروری کو ان کے خاندان کی شرم الشیخ منتقلی کے دوران قبضے میں لے لیا تھا۔

مصر کے مؤقر عربی اخبار"روز الیوسف" کی رپورٹ میں سوزان مبارک کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں گذشتہ برس ایک برطانوی اشاعتی ادارے کے ساتھ اپنی یادداشتوں کی اشاعت کا سودا کیا۔ معاہدے کے تحت 12 ستمبر 2011ء کو سوزان نے اپنی یادداشتوں کے تمام اشاعتی حقوق اشاعتی ادارے کو دیتے ہوئے اس کے بدلے میں ایک کروڑ آسٹریلوی پاؤنڈز کا چیک وصول کیا تھا جو لندن میں قائم "آف انگلینڈ" نامی ایک بنک کی برانچ سے کیش کرایا جانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سوزان مبارک کی یادداشتوں پر مشتمل اصلی نسخہ کی تالیف ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ لندن میں "مصری خاتون اول کے تخت اقتدار پر 30 سال" کے عنوان سے جو نسخہ موجود ہے وہ برطانوی اشاعتی کمپنی کے پاس ہے، جس کا انگریزی میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمہ سیکشن کےایک لبنانی نژاد عہدیدار نے کیا ہے۔ مترجم نسخے میں کئی مقامات پر اصل کاپی سے ہٹ کر ترمیم واضافہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق سوزان مبارک کی یادداشتوں کا موجودہ اصل نسخہ 500 صفحات پر مشتمل ہے، جس کی تحریر کا آغاز 13 مئی 2011ء کو کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ وہی تاریخ ہے جس میں مصر کے نگراں وزیر قانون نے سوزان مبارک کے شوہر حسنی مبارک کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

سوزان مبارک مزید لکھتی ہیں کہ ان کےشوہر کے خلاف عوامی انقلاب کامیاب ہونے کے بعد انہیں مارے جانے کا خدشہ تھا جس کے باعث وہ خود بھی سخت نفسیاتی دباؤ کا شکار تھیں۔ اسی ڈیپریشن کی وجہ سے انہوں نے بہت زیادہ مقدار میں خواب آور گولیاں کھا کر اقدام خود کشی کر لیا تھا تاہم انھیں بچا لیا گیا۔ ان کے اس اقدام نے حسنی مبارک کو بھی پریشانی سے دوچار کیا جس کے بعد عالمی سطح پر انہیں بچانے کے لیے پناہ کی پیشکشیں موصول ہونے لگیں۔

سوزان مبارک لکھتی ہیں کہ حسنی مبارک کے استعفے کے بعد انہیں 11 سے 14 فروری تک حراست میں رکھا گیا۔ یہ ان کی زندگی کے سیاہ ترین ایام تھے۔ سابق خاتون اول نے یادداشتوں میں اپنی بچپن کے کئی اہم واقعات بھی قلم بند کیے ہیں۔ ان میں تعلیمی دور میں ایئر ہوسٹس بننے کی خواہش اور حسنی مبارک سے اپنے تعلقات کے آغاز، شادی اور اولاد تک کئی اہم واقعات کو شامل کیا ہے۔

سوزان لکھتی ہیں کہ وہ ذاتی طور پر سابق مصری بادشاہ شاہ فواد اول کی اہلیہ ملکہ نازلی کی شخصیت سے بہت متاثر تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ"ملکہ معظمہ" کا لقب مُجھے میری سہیلیوں نے دیا تھا، لیکن یہ صرف شاہی محل ہی میں زیادہ مشہور تھا، تاہم سب سےپہلے اس لقب کو اسرائیل کے ایک اخبار نے اس وقت مشہور کیا جب ان کے شوہر کے خلاف عوامی انقلاب آ چکا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ میں "ملکہ معظمہ" کہلوانے کی حقدارہوں کیونکہ میں اپنے شوہر کے تیس سالہ دور اقتدار میں خاتون اول رہ چکی ہوں۔

سوزان مبارک لکھتی ہیں کہ "حسنی مبارک کو پورا پورا یقین تھا کے معزولی کے بعد انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈیموکریٹک باڈی گارڈز سے کہا تھا کہ وہ انہیں تنہا نہ چھوڑیں، حتیٰ کہ سابق صدر کو بیت الخلاء میں لے جاتے وقت بھی سیکیورٹی گارڈ ان کے ساتھ ہوتے تھے۔