طالبان کی حمایت سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد

نیٹو فوج کے بعد افغانستان پر طالبان کنٹرول کا خدشہ: رپورٹ

نشر في:

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکی فوج کی اس خفیہ رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی مزاحمتی سرگرمیوں کی حمایت کررہا ہے اور طالبان نیٹو فوج کے انخلاء کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔

حنا ربانی کھر نے افغان دارالحکومت کابل کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس رپورٹ کو ممکنہ تزویراتی خفیہ معلومات سمجھتے ہیں۔یہ ایک پرانی بوتل میں پرانی ہی شراب ہے''۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ ختم کر دینا چاہیے۔

امریکی فوج کی مرتب کردہ یہ رپورٹ برطانوی اخبار ٹائمز آف لندن نے شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان پاکستان کی مدد سے افغانستان سے نیٹو کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد اقتدار سنبھال سکتے ہیں۔ اخبار نے اس رپورٹ کو انتہائی خفیہ اور کلاسیفائیڈ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ امریکی فوج نے افغانستان میں بگرام کے ہوائی اڈے پر گذشتہ ماہ نیٹو کے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ اس رپورٹ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان اور برطانیہ کے دفتر خارجہ دونوں نے ہی اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ نیٹو کے تحت انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کے ترجمان لیفٹیننٹ جمی کومنگز نے اس دستاویز کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے یہ فوجی کارروائیوں کا کوئی تزویراتی مطالعہ ہے اورنہ یہ ایک تجزیہ ہے بلکہ یہ زیرحراست طالبان کے بیانات اور آراء پر مبنی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے امریکی فوج کی خفیہ رپورٹ میں پاکستان پر افغان طالبان کی حمایت سے متعلق الزامات کو من گھڑت اور مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ہم نے افغانستان میں عدم مداخلت کا عزم کررکھا ہے۔ایک اور پاکستانی عہدے دار نے خفیہ رپورٹ کے افشاء کی مذمت کی ہے۔اس عہدے دار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''رپورٹ دستیاب نہیں بلکہ اس کا افشاء کیا گیا ہے اور اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے''۔

ٹائمزآف لندن نے اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ''بہت سے افغان نیٹو کی قیادت میں ایساف فوج کے ملک سے انخلاء کی صورت میں طالبان کی واپسی کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں جبکہ طالبان اسے اپنی ناگزیر فتح قراردے رہے ہیں''۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ''اس خفیہ دستاویز کے مطابق طالبان افغانستان میں مقبولیت حاصل کررہے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ زیادہ روادار ہوتے جا رہے ہیں''۔

اس خفیہ دستاویز میں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسی پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ طالبان کی غیرملکی فوجوں پر حملوں کے لیے رہنمائی کررہی ہے لیکن پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے۔یہ رپورٹ چار ہزار سے زیادہ زیرحراست طالبان اور القاعدہ کے کارکنان سے تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔تاہم اس میں کسی انفرادی مزاحمت کار کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی اپنی ویب سائٹ پر اس رپورٹ کو جاری کیا ہے اور ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ'' پاکستان اور اس کا طاقتور خفیہ ادارہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) طالبان کے سنئیر لیڈروں کے ٹھکانوں کے بارے میں آگاہ ہے اور وہ افغانستان سے غیر ملکی دراندازوں کی حمایت کررہے ہیں''۔

بی بی سی نے مزید پھلجڑی یہ چھوڑی ہے کہ ''سنئیر طالبان لیڈر آئی ایس آئی کے حکام سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں اور حکومت پاکستان کی جانب سے اگر کوئی خاص ہدایت ہو تو وہ ان تک پہنچاتے ہیں''۔

پینٹاگان کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ رپورٹ نہیں دیکھی اس لیے وہ اس کے مواد پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔ البتہ پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا تھا کہ ''ہم ایک طویل عرصے سے آئی ایس آئی کے بعض عناصر اور انتہا پسندوں کے نیٹ ورکس کے درمیان تعلقات کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ''امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا بھی اس بارے میں واضح ہیں اور وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں طالبان جنگجوؤں کی محفوظ پناہ گاہیں ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں اور پاکستانی حکام کو انھیں ختم کرنے کی ضرورت ہے''۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی ریاست قطر میں امریکا کی پشت پناہی سے طالبان مزاحمت کاروں کا ایک دفتر کھولا جا چکا ہے اور امریکی حکام طالبان سے افغانستان میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔

درایں اثناء پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں آرمی کے جنگی طیاروں نے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بدھ کو علی الصباح بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم بیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے پشاور میں ایک بیان میں بتایا ہے کہ جنگی طیاروں سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس علاقے میں طالبان کمانڈر ملا طوفان اور کمانڈر محی الدین کا کنٹرول ہے اور موخر الذکر کمانڈر کی بھی فضائی حملے میں ہلاکت کی اطلاع ہے۔تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔