زیر حر است شامی نونہالوں پر تشدد، بجلی کے جھٹکے
والدین نے بچوں کو گرفتاری کے ڈر سے اسکول بھیجنا چھوڑ دیا
شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں سکیورٹی فورسز بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں سے متعلق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جمعہ کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بچوں پر تشدد کے بارہ کیسوں کی تفصیل درج ہے۔ان بچوں کو حراستی مراکز میں سکیورٹی فورسز نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ کے ڈائر یکٹر لوئی واٹمین نے کہا ہے کہ ''بہت سے کیسوں میں سکیورٹی فورسز نے بالغوں کی طرح بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا''۔ رپورٹ کے مطابق شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار شدہ ایک سو سے زیادہ افراد نے حراستی مراکز میں اہلکاروں کے وحشیانہ تشدد کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں پر بھی تشدد کے ہر طرح کے حربے آزمائے جارہے ہیں۔
تیرہ سال یا اس سے کچھ زائد عمر کے بچوں نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ سکیورٹی افسر انھیں قید تنہائی میں رکھتے تھے،انھیں مارتے پیٹتے اور بجلی کے جھٹکے لگاتے تھے۔ان پر سگریٹ سلگا کر لگادیتے تھے جس سے وہ زخمی ہو جاتے تھے۔ سکیورٹی اہلکار انھیں لوہے کے کھمبوں کے ساتھ ہاتھ باندھ کر گھنٹوں الٹا لٹکا دیتے تھے۔
للذاقیہ سے تعلق رکھنے والے ایک تیرہ سالہ لڑکے کے والدین نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے دسمبر میں اس کو نو دن تک زیر حراست رکھا تھا اور اس پر محض یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس نے صدر بشار الاسد کی تصاویر کو نذر آتش کر دیا تھا، مظاہرین کو احتجاج پر اکسایا تھا اور سکیورٹی فورسز کی کاروں کی توڑ پھوڑ کی تھی۔
بچے کے والدین نے مزید بتایا کہ سکیورٹی افسروں نے سگریٹ سلگا کر اس کی گردن اور ہاتھوں پر لگائے اور اس پر ابلتا ہوا پانی پھینک دیا تھا۔ ایک اور تیرہ سالہ بچے نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ سال مئی میں اس کو گرفتار کرنے کے بعد تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور معدے پر بجلی کا کرنٹ لگنے کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔
اس کم سن لڑکے نے بتایا کہ ''سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے دوسری مرتبہ جب مجھ سے تفتیش کی تو انھوں نے ایک مرتبہ پھر تشدد کا نشانہ بنایا اور مجھے بجلی کے جھٹکے دیے۔تیسری مرتبہ تفتشی عمل کے دوران ان کے پاس پلاس تھے اور اس سے انھوں نے میرے ناخن نکال دیے تھے''۔
واضح رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف گذشتہ سال مارچ کے وسط سے جاری احتجاجی تحریک کے بعد سے بیشتر اسکول بند ہیں اور سرکاری سکیورٹی فورسز نے ان کو حراستی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسکولوں کی عمارتوں کی چھتوں پر سکیورٹی فورسز کے بندوق بردار اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق والدین کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کے غائب ہونے کے ڈر سے وہ انھیں باہر بھیجنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ وسطی شہر حمص سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے اپنے دس سالہ بیٹے کو اسکول بھیجنا بند کر دیا ہے کیونکہ اسکول کی طرف جانے والی مرکزی سڑک شاہراہ برازیل پر گھات لگائے بندوق بردار حکومت مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہم اس کو ''شاہراہ موت'' کے نام سے پکارتے ہیں۔
کم سن شامی بچوں نے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اندھا دھند گرفتاریوں کے کئی ایک واقعات کا نکشاف بھی کیا ہے۔ ایک سترہ سالہ لڑکی نے بتایا کہ گذشتہ سال مئی میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار للذاقیہ میں واقع اس کے اسکول میں داخل ہو گئے تھے اور انھوں نے ان کی جماعت کے تمام لڑکوں کو گرفتار کرل یا تھا۔ ان لڑکوں کا بھی قصور صرف یہ تھا کہ ان کے اسکول کی عمارت کی دیواروں کے اوپر صدر بشار الاسد کے خلاف نعرے درج تھے اور انھیں اسی کی بابت پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا لیکن یہ طالبہ اس کے بعد کچھ نہیں جانتی تھی کہ ان بچوں کو رہا کر دیا گیا تھا یا نہیں۔
اس امریکی تنظیم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کے لیے دباٶ ڈالے اور شام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور عرب لیگ کے مبصرین کے ساتھ تعاون کرے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام کے بارے میں مغربی اور عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر غور کر رہی ہیں۔ اس میں شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد کے محرک ممالک نے اس کی زبان نرم کردی ہے تاکہ روس اور چین کو بھی اس کی حمایت پر آمادہ کیا جا سکے۔