شامی شہر"حماۃ" 3 دہائیوں میں دوسری مرتبہ خون میں غرقاب
نہتے شہریوں کا قتل عام ... بشار، والد کے نقش قدم پر
دولت، طاقت اور اقتدار وہ نشے ہیں کہ جو انسان کو حیوان بنا کر اس سے وہ کچھ کرواتا ہے جسے انسانیت کسی طور پر روا نہیں سمجھتی۔ کچھ ایسی ہی کیفیت کا سامنا شام کو ہے، جہاں تاریخی شہر"حماۃ" صدر بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کی اسی انسان دشمنی کی منہ بولی تصویر بنا دکھائی دیتا ہے۔
حماۃ میں تیس سال کے بعد آج ایک مرتبہ پھر وہی خونی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ دو فرروی سنہ 1982ء کو سابق صدر حافظ الاسد کے بھائی اور موجودہ فوجی جرنیل رفعت الاسد نے "حماۃ" میں جس وحشیانہ قتل عام کا مظاہرہ کیا تھا۔
آج وہی کھیل حافظ الاسد کے فرزند بشار الاسد کھیل رہے ہیں۔ حماۃ میں نہتے شہریوں کے قتل عام میں حافظ الاسد کے ہمراہ ان کے بھائی رفعت الاسد کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے تھے اور بشار الاسد کے اہل حماہ کے خلاف جرائم میں ان کے بھائی جنرل ماہر الاسد شریک مجرم ہیں۔
شام کے انقلابیوں نے جمعہ دو فروری کو احتجاجی مظاہروں کے لیے "حماۃ ہمیں معاف کرنا" کا عنوان سجایا، جو شہر میں تین دہائی قبل ڈھائی جانے والی قیامت کی جانب اشارہ اور اپنے اسی عزم صمیم کو دہرانا تھا، جس کے ساتھ اس وقت کے اہل حماہ نے سرکاری ظلم و ستم کا مقابلہ کیا۔
حماۃ میں کشت وخون
یہ دو فروری سنہ 1982ء کا واقعہ ہے، جب حماۃ کے باسیوں پر حافظ الاسد اور ان کے دست راست رفعت الاسد کی شکل میں آفت ٹوٹ پڑی۔ شہر میں خون کی ہولی کھیلنے کے لیے جواز یہ تراشا گیا کہ یہاں سنی مسلک کی پیروکار مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے جنگجو موجود ہیں اور فوج ان سے شہر کو پاک کرنا چاہتی ہے۔
اخوان المسلمون کے سرفروشوں کے خلاف شروع کیے گئے اس آپریشن کے دوران خواتین، بچوں، بوڑھوں اور نہتے شہریوں پر ٹینکوں، گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپخانے سے وہ آگ برسائی گئی کہ بچ جانے والے آج بھی اس سے پناہ مانگتے ہیں۔
جنرل رفعت اسد کی کمان میں شامی فوج کی بھاری تعداد توپ وتفنگ کے ساتھ حماۃ میں آندھی کی طرح داخل ہوئی اور ستائیس دن تک قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا۔ فوج گھروں میں گھس کربے گناہ خاندانوں کو موت کے گھاٹ اتارتی اور ان کے پیچھے آنے والے اہلکاران بدقسمت بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی لاشوں کو گھسیٹے اور اجتماعی قبرستانوں میں پیوند خاک کرتے جاتے۔
اس خون کی ہولی کے زندہ بچ جانے والے عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ رفعت الاسد کی نگرانی میں حملہ آور سپاہ کی کارروائی میں کم سے کم اڑتیس ہزار سویلین مارے گئے جو شہر کی کل آبادی کا ایک تہائی تعداد تھی۔ انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق ستائیس دن تک حماۃ میں جاری رہنے والے آپریشن میں چالیس ہزار افراد ہلاک، پندرہ ہزار لاپتہ اور ایک لاکھ بے گھر ہوئے تھے۔
گذشتہ گیارہ ماہ سے حماۃ ایک مرتبہ پھراسی خاک اور خون کے دریا سے گذر رہا ہے۔ شامی فوج کے ہاتھوں سینکڑوں بے گناہ بچے، خواتین اور دیگر شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں کو عقوبت خانوں میں اذیت ناک سزاؤں کا سامنا ہے۔
سنہ 1979ء میں سابق صدر حافظ الاسد کےخلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد حماۃ، ادلب اور حلب سمیت کئی دیگر شہروں میں فوج داخل کر دی گئی تھی۔ سنہ 1980ء میں حافظ الاسد نے ایک صدارتی فرمان جاری کیا جسے ریاست کے قانون کا درجہ دیا گیا۔ اس قانون کے تحت اخوان المسلمون سے وابستگی ثابت ہونے والے کسی بھی شخص کو فوجی عدالتوں سے پھانسی دلوانے کی منظوری دی گئی۔ چنانچہ جیلوں میں زیر حراست اخوان المسلمون کے سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں کو اس کالے قانون کے تحت موت کی سزائیں دی گئیں تھیں۔