برطانوی جیلوں میں راسخ العقیدہ اسلام کی تبلیغ کا انکشاف

قیدیوں کو خودکش حملوں کی ترغیب دی جارہی ہے:رپورٹ

نشر في:

برطانیہ کی داخلہ امور کی سلیکٹ کمیٹی نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کی جیلوں میں بند اسلام پسند قیدی وہاں نئے آنے والوں میں راسخ العقیدہ اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں۔

سلیکٹ کمیٹی نے نوماہ کی تحقیقات کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی جیلوں میں سخت سکیورٹی کے باوجود ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق بعض قیدیوں کو جیل میں داخلے کے چند روز کے بعد ہی خودکش مشن انجام دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

پارلیمان کے وزراء نے لندن کے جنوب مشرق میں واقع بلمارچ جیل کا دورہ کیا تھا جس میں سب سے خطرناک انتہاپسند قید ہیں۔اس جیل میں کل قیدیوں میں سے بیس فی صد مسلمان ہیں اور ان میں تیس دہشت گرد بھی شامل ہیں۔

بلمارچ جیل کے قیدیوں میں ایک ہاتھ سے محروم سخت گیر عالم دین ابو حمزہ المصری بھی شامل ہیں جو وہاں لوگوں کو ہلاکتوّں پر اکسانے اور نسل پرستی کے الزامات میں سات سال قید کاٹ رہے ہیں۔ان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے۔برطانوی ارکان پارلیمان نے جیل کے دورے میں ان سے بھی ملاقات کی تھی۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے'' سخت گیری کی جڑیں'' کے عنوان سے سوموار کو اس رپورٹ کے مندرجات شائع کیے ہیں جن کے مطابق ابو حمزہ المصری نے دعویٰ کیا کہ برطانوی جیلوں میں قید مسلمانوں کے تحفظات کا تعلق برطانیہ کی فلسطین اور افغانستان کے بارے میں خارجہ پالیسی اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے واقعات سے متعلق پالیسی سے ہے''۔

ابوحمزہ المصری نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کی تقریروں سے ملک میں سخت گیری اور بنیاد پرستی کو فروغ ملا ہے۔انھوں نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ یہ کافی ہے کہ لوگوں کو بنیاد پرستی کی خبر ملاحظہ کرنے دی جائے۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قیدی اپنے تحفظات ،گناہ اور صلاحیت کی وجہ سے انتہاپسندی کا رُخ کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں منظرعام پر آئی ہے جب چار مسلم نوجوانوں کو لندن اسٹاک ایکسچینج میں کرسمس کے موقع پر بم دھماکوں کی سازش کے الزام میں سزا سنائی جانے والی ہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان چار میں سے ایک دہشت گرد عبدالمیاہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جیل میں انتہا پسند بنا تھا۔اسے منشیات اور اسلحہ رکھنے کے الزام میں جیل میں ڈالا گیا تھا جہاں وہ سدھرنے کے بجائے انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔

کارڈیف میں میاہ کے ایک سابق ہمسائے نے اس کے بارے میں بتایا کہ ''وہ جیل میں ایک عام مجرم کے طور پر گیا تھا لیکن جب وہ وہاں سے واپس آیا تو انتہا پسندانہ خیالات کا حامل ہوچکا تھا''۔رپورٹ میں جیلوں میں قیدیوں کو سخت گیروں کے ہاتھ لگنے اور انھیں انتہاپسند بننے سے بچانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔